نور مقدم قتل کیس، مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا تحریری بیان عدالت میں پیش
اسلام آباد: نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کا تحریری بیان عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں بے گناہ ہوں۔مجھے اور میرے ساتھیوں کو غلط طور پر کیس میں گھسیٹا گیا۔نور مقدم کے ساتھ لانگ ری لیشن شپ میں تھا۔نور نے مجھے زبردستی امریکا کی فلائٹ لینے سے منع کیا۔نور نے کہا وہ بھی امریکا جانا چاہتی ہے۔نور مقدم نے دوستوں کو فون کر کے ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے حاصل کیے۔ہم ائیرپورٹ کی طرف نکلے لیکن نور نے ٹیکسی گھر کی طرف کرا دی۔پھر میرے گھر پر نور نے اپنے دوستوں کو پارٹی کے لیے بلایا۔پارٹی شروع ہوئی تو میں اپنے حواس کھو بیٹھا،ہوش آیا تو مجھے باندھا ہوا تھا، پولیس نے مجھیبچایا، ملزم ظاہرجعفر نے مزید کہا کہ ہوش آنے پر پتہ چلا کہ نورمقدم کا قتل ہوگیا ہے۔واقعہ میرے گھر ہوا اس لیے مجھے اور میرے والدین کو پھنسایا جا رہا ہے۔پولیس کے آنے سے پہلے شوکت مقدم اور ان کے رشتے دار ہمارے گھر پر تھے۔شوکت مقدم اور ان کے رشتے داروں سے پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔نور کے فون کی سی ڈی آر 20جولائی صبح پونے گیارہ بجے کی حاصل کی گئی۔سی ڈی آر سے پتہ نہیں چل سکا نور نے کس کو پارٹی کے لیے مدعو کیا تھا۔خیال رہے کہ 09 فروری2022 کو۔اسلام آباد کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج عطا ربانی نے نور مقدم کیس سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ عدالت کی جانب سے پچیس سوالات پر مبنی سوالں امہ ملزمان کو دیا گیا۔ قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے اپنے سوالں امے میں عدالت کو بتایا کہ مقتولہ اور میں گزشتہ کچھ عرصے سے ریلیشن شپ میں تھے، مقتولہ کے اصرار پر گھر میں ڈرگ پارٹی منعقد کی گئی اور نور منشیات کی بھاری مقدار لیکر اسکے گھر پہنچی۔امریکہ روانگی کی کنفرم ٹکٹ تھیں۔ عدالت میں 342 کے سوالنامے کے جواب میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے وکیل کے زریعے بتایا کہ 18 جولائی کو نور مقدم میرے گھر اپنی مرضی سے آئی۔ 20جولائی کو میرے گھر میں ڈرگ پارٹی تھی جس میں نور مقدم اور اس کے دوست بھی تھے۔ملزم کے مطابق ڈرگ پارٹی شروع ہوئی تو منشیات کی وجہ سے اپنے حواس کھو بیٹھا جب ہوش آیا تو اپنے گھر میں بندھا ہوا تھا۔ ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان کے وکلا نے 342 کے سوالات کے جوابات دے دئیے۔ملزمان کی جانب سے 25 سوالوں کے جواب جمع کرائے گئے۔کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کر دی گئی تھی۔


