اوستہ محمد،نامعلوم افراد کی فائرنگ، دو افراد جاں بحق،2زخمی

اوستہ محمد:نوجوان معروف تاجر حاجی رحمت اللہ جتک پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار کلاشن کوفوں سے مل میں بیٹھے مل مالک پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حاجی رحت اللہ جتک۔ جمعدار نوریز مستوئی موقع پر قتل ہوئے جبکہ دو افراد عنایت اللہ جتک اور عبدالکریم لہر زخمی ہوئے مقتولین کی نماز جنازہ گیارہ بجے آج ادا کی گئی ہے پولیس کی جانب کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی شہریوں اور تاجر برادری نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھگڑے کسی اور کے ہوتے ہیں نشانا بے قصور اور شریف شہری ہوتے ہیں اور کاروباری حضرات ہوتے ہیں نا اہل ایس ایچ او کی سست روی ہے کہ نہ تو گشت ہے اور نہ کوئی چیکنگ ہے حملہ آور سندھ سے آکر کلاشن کوف سے فائرنگ کر کے با آسانی چلے جاتے ہیں کوئی گرفتاری نہیں ہوتی ہے تاجر برادری کا کہنا ہے تھا کہ قبائلی جھگڑے میں اصل لوگوں کی بجائے شریف اور کاروباری کا قتل آسان ہوگیا اوستہ محمد نو گو ایریا بن گیا ادھر بڑے آپریشن کی ضرورت ہے اور قاتلوں کو گرفتار کیا جائے ورنہ احتجاج کریں گے جبکہ جتک برادری میں شدید غم غصہ کی لہر دوڑی ہوئی ہے کہ لیڑوانی بلیدی نے قومی جھگڑے کو ہوا دی جو نقصاندہ ہوگا پولیس نے شک کی بنا پر کچھ لوگوں کو پکڑا لیکن تاہم حملہ آور گرفتار نہ ہو سکے۔مقتولین کی نماز جنازہ میں علاقائی معتبرین۔سیاسی سماجی رہنماوئں۔ مل اونروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی سوگ کا منظر مقتولین کو سپرد خاک کیا گیا۔پولیس کے مطابق ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوا اے ایس پی(ر)کیپٹن حسنین اقبال نے کہا کہ ورثا کیس میں ملزمان کو نام زد کریں تو ہم ملزمان پر ریٹ کریں اور پکڑیں۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ میراں پور سندھ تک حملہ آوروں کے پیچھے پولیس گئی لیکن وہ نکل گئے اگر بر وقت ورثا نشاندہی کرتے کہ ان کی دشمنی تھی اور وہ بلیدی تھے تو کامیابی ہوتی البتہ اب بھی پولیس انہیں ضرور گرفتار کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں