اپوزیشن مایوس اور مسترد شدہ سیاست دانوں کا ٹولہ ہے، شاہ محمود قریشی
اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن انتشار کی سیاست کر رہی ہے، اپوزیشن مایوس اور مسترد شدہ سیاست دانوں کا ٹولہ ہے۔ اپنے جاری بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2018ئ سے لے کر اب تک حکومت گرانے کی کوششیں کی گئیں انہیں لیکن ناکامی ہوئی، اب اگر عدم اعتماد کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں تو اپنا شوق پورا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے پاس اگر ووٹ مکمل ہوتے تو وہ حکومت میں ہوتے، ان کے پاس ووٹ پورے نہیں ہیں لہذا وہ دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں، دائیں بائیں دیکھنے والوں کو ناکامی ہوگی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن اس حقیقت کو تسلیم کرے 2018ئ کے انتخابات میں عوام نے انہیں مسترد کیا، عوام اگر اپوزیشن پر اعتماد کرتے تو وہ آج حکومت میں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کی بنا پر 2023ئ کا سال بھی تحریک انصاف کا سال ہے، اپوزیشن کو 2023 ئ میں بھی مایوسی ہوگی، اگلی باری پھر ہماری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک درست سمت پر جا رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان ملک کا وقار بلند اور پاکستان کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں، درست نیت، خلوص اور ایمانداری سے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کوشاں ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوم ساتھ دے ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے، پی پی ن لیگ دونوں جماعتوں نے 40 سال تک اقتدار کے مزے لوٹے، دونوں جماعتیں باریوں کی سیاست اور فرینڈلی اپوزیشن کا کھیل کھیل کر عوام کو بے وقوف بنا رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ عوام دونوں جماعتوں سے منتفر ہو چکے تھے، عوام کو عمران خان کی شکل میں ایک ایماندار اور محبِ وطن قیادت میسر ہو گئی ہے، عوام کی امیدوں کا مرکز وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کسی چور اور لٹیرے کو این اے آر او نہیں دیا اور نہ دیں گے، وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کرپشن اور لٹیروں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو معاشی حب بنانا چاہتے ہیں، ہماری توجہ جغرافیائی اقتصادی ترجیحات کی طرف ہے، ہم اپنی جغرافیائی پوزیشن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو بہت بڑا اقتصادی حب بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی ہماری حکومت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، مہنگائی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے، کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں اشیائ کی نقل و حمل بند ہو گئی جس کی وجہ سے اشیائ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ 8، 9 ماہ پہلے 40 ڈالر فی بیرل تھا، آج 90 ڈالر فی بیرل پٹرول ہم درآمد کرتے ہیں، جب تیل مہنگا ہوگا تو گیس‘بجلی، ٹرانسپورٹ سمیت روز مرہ اشیائ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کے ذریعے عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم ہوگا۔


