وندر،بجلی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج،ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

لسبیلہ:کے الیکٹرک کی طرف سے بجلی کی بندش کے خلاف وندر میں ہاری مزدور کسان ماہیگیر اتحاد کی کال پر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے،مظاہرین شارجہ ہوٹل کے سامنے جمع ہونا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں جمع شارجہ ہوٹل سے ریلی روانہ ہوگئی جس کی قیادت ہاری مزدور کسان ماہیگیر اتحاد کے رہنماؤں عبدالستار انگاریہ کامریڈ سلیم بلوچ کررہے تھے۔ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اور اٹھا رکھے تھے۔ جن پر کے الیکٹرک کی زیادتیوں کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے قومی شاہراہ پر گشت کرتے ہوئے وندر گرڈ اسٹیشن کے سامنے پہنچے جہاں پر مظاہرین نے دھرنا دیا احتجاجی کیمپ میں بی این پی مینگل کے عبدالحمید رونجہ، سینئر رہنما عباس واڈیلہ وڈیرہ نوربخش ڈگارزئی عتیق الرحمن، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی شبیر احمد یوسف خلجی مولانا عمر عادل، نیشنل پارٹی کے کامریڈ سلیم بلوچ ابوبکر بلوچ عطاء اللہ شاہوانی الٰہی بخش بلوچ، باپ پارٹی کے رئیس عالم سور سابق کونسلر محمد علی میروانی، جماعت اسلامی کے عبدالمالک منصوری ودیگر سمیت سینکڑوں کارکنوں نے پہنچ کر کسان ماہیگیر مزدور اتحاد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس دوران وندر کی تاجر برادری نے اپنی دکانیں بند کرکے احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت کی۔ مسلسل پانچ گھنٹے دھرنا جاری رہا اس دوران رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو مسئلے کے حل کے لئے اقدامات کی ہدایت کردی جس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)لسبیلہ فرحان سلیمان رونجھو دھرنے میں پہنچ گئے،مظاہرین کی طرف سے وڈیرہ عبدالستار انگاریہ اور کامریڈ سلیم بلوچ نے اپنے مطالبات سامنے رکھے جس پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) لسبیلہ فرحان سلیمان رونجھو نے اسٹیشن مینیجر کے الیکٹرک وندر منیر نوناری کی موجودگی میں کہا کہ تین ماہ کی بجلی کی بندش کے دوران فصلوں کو جو نقصان ہوا محکمہ ریونیو سروے کرکے نقصان کا تخمینہ لگائے گا پیر کے روز ڈپٹی کمشنر کی موجودگی میں مزاکرات ہونگے جبکہ اس وقت تک بجلی مکمل بحال ہوگی جس پر مظاہرین نے اپنا دھرنا مؤخر کردیا اور پیر کے روز کے روز مزاکرات کی کامیابی یا ناکامی کی صورت میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں