بالا دست قوتیں بلوچ کو مفلوک الحال بنانے پر تلی ہوئی ہیں ، مقررین

تربت(نمائندہ انتخاب ) حق دو تحریک تربت کے آرگنائزنگ باڈی کی تقریب حلف برداری جمعہ کی شام مولانا عبدالحق مرحوم کی لائبریری میں منعقد ہوئی جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں، سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت انجمن تاجران تربت کے عہدہ داروں اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست نے کہا کہ بلوچ جدوجہد کی مختلف جہتیں اور پرتیں ہیں، بلوچستان کے وسائل پر ملکیت کے لیے جدوجہد کرنے والی ہر طاقت کو سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ بالادست طاقتیں ایک منصوبہ بندی کے تحت بلوچستان کی سرزمین سے وسائل لوٹ کر بلوچ کو مفلوک الحال بنانے پر تلے ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک بلوچ محکوم سماج کی ضرورت ہے، علمی و شعوری اور سیاسی و سائنسی انداز میں بہ حیثیت قوم بلوچ کو آگے بڑھنا چاہیے، حق دو تحریک کو ایک زمہ دار فورم کے طور پر سیاسی جماعتوں کے خلاف نہیں جانا چاہیے بلکہ اپنا دروازہ ہر سیاسی کارکن کےلیے کھلا رکھنا چاہیے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس او کے سابق چیئرمین ظریف رند نے کہا کہ بلوچ سماجی ڑھانچہ دیگر سے مختلف ہے، حق دو تحریک کی قیادت کو موجودہ سیاسی قوتوں سے تنقید کا سامنا ہے تو یہ حیران کن نہیں اور نا ہی پریشان کن ہے، فرسودہ سیاست نے ہمیشہ یہ نعرہ لگاکر مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ سنگ اور سر لڑانے کی چیز نہیں اور اس نعرہ کے پیچھے نوجوان کو جدوجہد سے مایوس کردیا اور ہمیں زہنی طور پر غلام بنانے کی کوشش کی گئی،م تاکہ اپنے اوپر مظالم کو قبول کریں، انہوں نے کہاکہ ہر چوک اور چوراہے پر یا گھر سے نکلتے وقت شناخت پوچھنا تزلیل ہی نہیں بلکہ غلامی کا احساس دلانا ہے، پر امن بلوچ سماج کو جب ہر مقام پر چوکی اور چیک پوسٹوں کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے لیے یہ حیران کن تھا، سالوں کی بربریت اور تزلیل آمیز رویے کے بعد لوگ آٹھ کھڑے ہیں، حق دو تحریک کی قیادت کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنے نعروں کا کس قدر پاس رکھیں گے، اب بلوچ عوام کو محرومی سے آگے محکومیت کا شدید احساس ہے اور یہ احساس ہمیں را، انڈیا یا کسی دوسری طاقت نہیں بلکہ خود اس ریاست کی پالیسیوں نے دیا یے، ہم اس وقت ایک وار زون میں رہ رہے ہیں، دنیا کے کسی وار زون میں انڈسٹری نہیں ہوتی، منشیات اور بلیک منی کے زریعے وار انڈسٹری کو چلایا جاتا ہے اس لیے ہمارے ہاں منشیات عام کردیا گیا جس کا ہماری نوجوان نسل کو سب سے زیادہ سامنا ہے، سابقہ چیئرمین اورماڑہ عیسی گمیگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستر سالوں میں ہمیں ہر حوالے سے محکومیت اور مظلومیت کا شکار بنا کر ملک کا نیچ ترین قوم سمجھا گیا، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے نہ صرف حقوق کی بات کی ہے بلکہ برابری اور قومی تشخص کے لیے بھی جنگ کا آغاز کیا ہے، یہاں کی سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے بلوچ مسائل پر ہمیشہ مفادات کی سیاست کی اور اصل قومی مسائل سے روگردانی کرکے پرفریب نعروں کے ہی چھے قوم کو لگایا ، حق دو تحریک کا ایک منشور ہے جو بلوچستان کے وسائل پر ملکیت اور قومی تشخص کے ساتھ برابری چاہتی ہے اتحاد و اتفاق ہماری طاقت ہے اگر ہم الگ الگ رہے تو مخالف قوتیں ہمیں نیست و نابود کردیں گی۔تقریب سے جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر گلاب بلوچ نے کہا کہ ھم جس خطے میں رہ رہے ہیں یہاں کا چوکیدار بدقسمتی سے ہمارا مالک بنا ہوا ہے، بلوچ ازل سے ایک پر امن قوم رہی ہے، حکمرانوں نے ہمیشہ ظلم کیا اور حالات کے مطابق برائے نام معافی کا کھیل بلوچوں کے ساتھ رچایا گیا، بلوچوں نے کبھی وفاق اور اسٹیبلشمنٹ سے بڑے بڑے مطالبات نہیں کیے۔ ہم نے بطور قوم ہر ظلم سہا لیکن ہم سے زندگی کا حق چھین لیا جارہا ہے، ہمارے نوجوانوں کو منشیات کا شکار بنایا گیا، سیکیورٹی کے نام پر سالانہ اربوں روپے لے کر ہمیں موت کا شکار بنایا گیا ہے، بلوچ اس وقت بے چھین ہے ابھی تک بلوچوں کو یہ اندازہ تک نہیں کہ ان کے ساتھ کتنا ظلم کیا جارہا ہے، ریکوڈک اور سیندک کے مالک نان شبینہ کے محتاج ہیں، اپنی سرزمین پر بلوچ کو ازیت اور زلت کا سامنا ہے جس دن بلوچ قوم نے اپنے اوپر کیے گئے مظالم کا احساس کیا وہ دن اسٹیبلشمنٹ کے لیے گھناونا دن ہوگا، تقریب سے انجمن تاجران تربت کے صدر حاجی کریم بخش، حق دو تحریک کے رہنما وسیم سفر، مولوی عبدالمالک بلوچ، مولانا نصیر احمد بلیدی اور یلان زامرانی نے بھی خطاب کیا جبکہ آخر میں صبغت اللہ شاہ جی نے حق دو تحریک کی آرگنائزنگ باڈی سے حلف لیا۔ آرگنائزنگ باڈی میں صادق فتح آرگنائزر، یعقوب جوسکی ڈپٹی آرگنائزر ،ماورا نوید نصیر انفارمیشن سیکرٹری منتخب کیے گئے۔تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض آسمی بلوچ نے سرانجام دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں