بلوچستان اسمبلی اجلاس ، حکومتی رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی، اصغر اچکزئی کا واک آﺅٹ

کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی، عوامی نیشنل پارٹی کے اصغر خان اچکزئی کا واک آﺅٹ، منگل کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے 45 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر میر جان محمد جمالی کی صدرات میں شروع ہوا ، اجلاس کے آغاز پر سابق صوبائی وزیر میر عارف جان محمد حسنی نے کورم کی نشاندہی کی جس پر اسپیکر کی ہدایت پر دو بار گھنٹیاں بجائے جانے کے بعد اجلاس شروع ہوا ، اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک قرار داد بار بار جمع کرارہا ہوں مگر اجلاس کے ایجنڈے پر نہیں لائی جارہی حالانکہ اس قرار داد سے کسی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا ، انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں لیویز پولیس اہلکاروں سمیت عام لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے روزانہ لاشیں اٹھائی جارہی ہیں مگر اس پر بھی یہاں کوئی بات نہیں کرتا گزشتہ اجلاس میں یہاں پرصحافیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے قرار داد لائی جانی تھی مگر بد قسمتی سے کورم کی نشاندہی کردی گئی ہم نے ملک بھر کی طرح اس ایوان میں بھی صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرنا تھی پورے ملک میں صحافت پر پابندیاں لگائی اور زبان بندی کیلئے آرڈیننس کے ذریعے کوششیں کی جارہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ علی وزیر کو سپریم کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے مگر سندھ میں ہر پیشی پر ایک نئی ایف آئی آر سامنے لاکر ان کی گرفتاری کو طول دیا جارہا ہے اس وقت پورے ملک میں علی وزیر سے یکجہتی کا اظہار کیا جارہا ہے ایک منتخب رکن قومی اسمبلی کیلئے آواز بلند کی جارہی ہے مگر ہم یہا ں ایک منتخب ایم این اے کیلئے ایوان میں قرارداد پیش نہیں کرپارہے ابھی حال ہی میں بارکھان سے نوجوان لاپتہ ہوئے ہیں اس سے پہلے بلوچستان یونیورسٹی سے طلباءاور خضدار سے ایک نوجوان لاپتہ ہوا مگر ہم اس ایوان میں اس پر بھی بات نہیں کرسکتے اگر ہم ایک ایم این اے کیلئے یہاں بات نہیں کرسکتے تو بتایا جائے تو کس فورم پر جاکر بات کریں ، انہوں نے کہا کہ علی وزیر کے خاندان نے دہشت گردی کیخلاف 18 لاشیں اٹھائی ہیں اور آج بھی وہ دہشت گردی کیخلاف بات کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ میڈیا کیخلاف پیکا جیسے ظالم آرڈیننس پر پورے ملک میں احتجاج ہورہا ہے مگر اس پر بھی ہم یہاں بات نہیں کرسکتے انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا گلہ آپ سے بنتا ہے بعدازاں اصغر خان اچکزئی احتجاجا اجلاس سے واک آﺅٹ کرکے چلے گئے جس پر اسپیکر میر جان محمد جمالی نے کہا کہ اصغر خان اچکزئی نے کئی ایک نکات اٹھائے انہوں نے کہا کہ علی وزیر رکن قومی اسمبلی ہیں ان کیلئے وہاں پر بہتر انداز میں بات ہوسکتی ہے جبکہ پیکا کے آرڈیننس کو میں ذاتی طور پر ٹھیک نہیں سمجھتا ماضی میں جب میں وزیر اطلاعات تھا تو اظہار رائے کی آزادی کیلئے ہر ممکن کوششیں کرتا رہا ، بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد خان طور اتمانخیل نے کہا کہ اصغر خان اچکزئی کی جماعت صوبائی حکومت کی اتحادی ہے اور اصغر خان اچکزئی حکومت کیخلاف بات کرتے ہیں وہ اپنی پوزیشن واضح کریں ، اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی شکیلہ نوید دہوار نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ سانحہ پتکی گورگینہ کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آٹھ سے دس سال کی عمر کے دو کمسن بہن بھائیوں کو گلا گھونٹ پر ظالمانہ انداز میں قتل کرکے ان سے بھیڑ بکریاں چھین لی گئیں شنید میں ہے کہ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں ایوان کو آگاہ کیا جائے کہ ان کیخلاف کیا کارروائی ہورہی ہے ورنہ کل کسی اور کا بچہ بھی محفوظ نہیں ہوگا ، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے رپور جلد ایوان میں لائی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں