رخشان ڈویژن میں یونیورسٹی کے قیام سے متعلق قرارداد منظور
کوئٹہ:رخشان ڈویژن میں یورسٹی کے قیام سے متعلق قرارداد متفقہ طورپر منظورکرلی گئی۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی میں بی این پی کے رکن ثناء بلوچ نے ایوان میں رخشان ڈویژن میں یونیورسٹی کے قیام سے متعلق اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رخشان ڈویژن بلوچستان کے ایک لاکھ مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے اور اس وقت اس علاقے کے ہزاروں نوجوانوں اعلیٰ و فنی تعلیم سے محروم ہیں خاران جو رخشان ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر ہے اور قدیم تاریخی حیثیت پر مشتمل خطہ ہے۔ لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ بلوچستان بالخصوص رخشان ڈویژن میں تعلیم کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے رخشان یونیورسٹی کے قیام کو ممکن بنا کر بلوچستان کو تعلیم کے شعبے میں ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے ثناء بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں تیل و گیس پر بات تو کی جاتی ہے لیکن اپنے لوگوں کو تعلیمیافتہ اور ہنر مند بنانے پر توجہ نہیں دی جارہی نوشکی واشک خاران ایک تاریخی علاقہ ہے رخشان یونیورسٹی کے لئے پانچ سو ایکڑ اراضی مختص کردی ہے اس پر یونیورسٹی بنائی جائے تو اس سے ہمارے نوجوانوں کو مختلف علم اور ہنر کے مواقع فراہم کئے جاسکتے ہیں۔صوبائی وزیر خزانہ نور محمد دمڑ نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قرار ادد کو پورے ایوان کے متفقہ قرار داد کے طو رپر لا کر زیارت، ہرنائی، دکی، قلعہ سیف اللہ اور دیگر علاقوں میں بھی جہاں جامعات نہیں ہیں ان کو بھی اس قرار داد کا حصہ بنایا جائے۔میر زابد علی ریکی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ میراتعلق بھی رخشان ڈویژن سے ہے میرا نام بھی قرار داد میں شامل کیا جائے۔ بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔


