بلوچستان کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا،صادق سنجرانی
کوئٹہ/اسلام آباد:چیئرمین سینٹ میر صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی صنعت و تجارت ، زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ افراد کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا ، ہمسایہ ممالک سے سیب کی امپورٹ کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں ، پہلے سے ہی تباہ حال شعبہ زمینداری کو مزید بربادی ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزاسلام آباد میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر حاجی اختر کاکڑ سے ملاقات کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حاجی اختر کاکڑ نے سینٹ چیئرمین کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاکھوں ٹن سیب کی پیداوار ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے سیب کے سیزن میں خرلاچی ، غلام خان ، وانہ ، پنجگور ودیگر بارڈرز سے ایرانی سیب افغانستان کے سیب کے نام پر امپورٹ کیا جاتاہے جس سے صوبے کی زراعت سے وابستہ افراد کو سیب کی صحیح قیمت نہیں مل پاتی اور انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سلسلے میں انہوں نے سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے کامرس کے چیئرمین سینیٹر ذیشان خانزادہ کی بھی توجہ مبذول کرائی جنہوں نے اس سلسلے میں انہیں یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے زمینداروں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ زرعی سیزن کے دوران ان پھلوں اور سبزیوں کی امپورٹ نہیں ہونی چاہیے جو صوبے میں بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہیں۔ انہوں نے چیئرمین سینٹ کو بلوچستان میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ مزید بزنس گیٹس کے قیام کے لئے کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں وہ ایوان صنعت و تجارت کے عہدیداران و ممبران کا ساتھ دیں اس سے صوبے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور بے روزگار میں کمی ہوگی۔ اس موقع پر چیئرمین سینٹ میر صادق سنجرانی کا کہنا تھاکہ بلوچستان کی صنعت و تجارت ، زراعت اور گلہ بانی سے وابستہ افراد کے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے گا ، ہمسایہ ممالک سے سیب کی امپورٹ کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں ، پہلے سے ہی تباہ حال شعبہ زمینداری کو مزید بربادی ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدات پر مزید بزنس گیٹس کا قیام عمل میں لا کر لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں اس سلسلے میں اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ایوان صنعت و تجارت کے عہدیداران اور ممبران کے ساتھ مل کر صوبے میں قانونی تجارت کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان صوبے میں قانونی تجارت کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کررہا ہے جو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان میں پیداواری شعبہ جات کی بھی تیز رفتار ترقی چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت صوبے میں بے روزگاری اور پسماندگی موجودہ حکومت کے لئے بڑے چیلنجز ہیں۔


