بلوچ طلبہ پر پولیس تشدد کے خلاف چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس کا خیر مقدم کرتے ہیں،سعد دہوار

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچستان کے طلبہ کی پروفائلنگ، جبری گمشدگی اور پرامن احتجاج پر پولیس تشدد افسوسناک امر ہے۔ آزادی اظہار رائے کا حق آئین پاکستان ہر شہری کو دیتا ہے مگر اس پر بزور طاقت قدغن لگانا ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی سازش ہے جو اپنے حقوق کے لیئے آواز بلند کرتے ہیں جو کہ قابل مزمت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کے بارے اسلام آباد کے مقتدراعلی کی سوچ میں اب تک تبدیلی نہیں آئی ہے گزشتہ دنوں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ طلبہ کے پرامن احتجاجی مظاہرے پر غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر طاقت کا استعمال اور جھوٹے مقدمات درج کرانا اسی سوچ کی تاحال مننظر کشی ہے، تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اسلام آباد کے مقتدر اعلی بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدہ لیں، آواز دبانے کی بجائے ان آوازوں کو سنجیدگی سے سنے۔ بلوچستان کا مسئلہ شروع دن سے سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی سیاسی ہے طاقت کے پے در پے استعمال سے یہ مسئلے پیچیدہ شکل اختیار کرچکا ہے۔ نیشنل پارٹی طلبہ کے تمام مطالبات کا حمایت کرتی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ طلبہ سمیت ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور صحافی ساجد طور کے خلاف درج مقدمات کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ کے ذریعے ہراساں کرنے کو بند کرنے اور لاپتہ طالبعلم حفیظ بلوچ کی بازیابی سمیت بلوچ طلبہ کے جائز مطالبات کو فوری پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں حل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں