ریکوڈک پر پس پردہ معاہدے کا علم کسی کو نہیں، اسرار زہری
خضدار (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ سابق وفاقی وزیر میر اسرارا للہ خان زہری نے کہاہے کہ ریکوڈیک پر پس پردہ معاہدہ کیا ہوا؟اس کا علم کسی کو نہیں تاہم بلوچستان کے عوام کی امیدوں کا محور یہی ریکوڈک کے قیمتی ذخائر تھے اب وہ بھی نہیں رہے۔اس محرومی کا یہ نتیجہ سابق حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور ناقص حکمت عملی کے باعث سامنے آیا ہے۔میں سمجھتاہوں کہ ریکوڈک کا سودیٰ سابق جرمانوں کے بدلے میں لگایا گیاہے بلوچستان یا وفاق کے لئے جس فیصد یا اعداد و شمارکا تذکرہ کیا جارہاہے وہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں اب کون گارنٹی دے سکتا ہے کہ لگے ہاتھوں ریکوڈک ذخائر پر کام شروع ہوگا اور اس کے ثمرات صوبہ یا وفاق کو ملیں گے یہ معاہدہ طویل عرصے تک کاغذی معاہدوں کے نظر ہوسکتا ہے اگر بلوچستان کو پچیس فیصد ملے بھی تو یہ رقم عوام تک پہنچنے سے قبل ہی بہی خواہان کی جیبوں میں چلی جائیگی عوام کے پلے کچھ بھی نہیں پڑ یگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔قومی سیاسی رہنماءمیر اسرار اللہ خان زہری کا کہنا تھاکہ عجب معاہدہ ہوا ہے نہ اس معاہدے کے شرائط وعدے اور وعید سامنے آئے اور نہ ہی عوام کو کچھ بتایا گیا، بند کمروں میں بلوچستان کے قیمتی اثاثہ اور سب سے بڑے ذخائر کا فیصلہ کیا گیا اس معاہدے کے باوجود بلوچستان کی سیاسی قیادت یا موجودہ بلوچستان حکومت کو بیساکھی دینے والے خاموش اور زیرِ لب ہیں۔ بی این پی (عوامی) کے سربراہ میر اسرا راللہ خان زہری کا کہنا تھاکہ 18ویں ترمیم میں واضح طور پر آئین کی تشریح کی گئی ہے کہ صوبوں کے جتنے بھی وسائل ہیں ان پر وہاں کے عوام کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مفادات کو دیکھ کر فیصلہ کریں تاہم ریکوڈیک پر جو فیصلہ گزشتہ روز ہوا اس پر صوبے کے عوام کی رائے کو نظر انداز کیا گیا اور اٹھارویں ترمیم کے تحت ان کے اختیار کو تسلیم نہیں کیا گیا جو کہ تعجب خیز ہے صوبائی حکومت بھی اس معاہدے میں دفاعی پوزیشن میں نظر آئی اب بلوچستان کے عوام کو علم نہیں کہ اس قیمتی ذخائر پر جس MoU پر دستخط ہواہے اس کے نقاط معاہدے کے شرائد کیا ہیں کسی کو کچھ علم نہیں ہے بس عوام کوخو شخبریاں دی جارہی ہیں جو کہ طفلی تسلی کے ماسوا کچھ بھی نہیں ہے۔ میر اسرار اللہ خان زہری کا کہنا تھاکہ ریکوڈک کی وجہ سے آج جس خفت یا نقصان کا سامنا کیا جارہاہے اس کے ذمہ دار بلوچستان کی سابق حکومتیں ہیں کہ جنہوں نے صوبے کے عوام کے مفاد میں اس قیمتی ذخائر پر نہ کوئی پالیسی مرتب کرسکے اور نہ ہی انہوں نے بہتر حکمت عملی اپنا یا جس کا خمیازہ آج جرمانہ اور اس مبہم معاہدے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔


