افغان حکومت نے اصل روپ دکھانا شروع کردیابغیر داڑھی ملازمین برطرف

کابل:لڑکیوں کے اسکول کی بندش کے بعد افغانستان میں طالبان کی جانب سے ایک اور قدامت پسند اقدام سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے تمام سرکاری ملازمین کو داڑھی رکھنے اور ڈریس کوڈ پر عمل کی ہدایت کردی ہے۔غیرملکی خبر رساں ایجنسی کو ذرائع نے بتایا کہ طالبان کی اس ہدایت پر عمل نہ کرنے والوں کو نوکری سے نکالا جاسکتا ہے۔حکومتی نمائندے سرکاری دفاتر کے داخلی حصوں میں گشت کر رہے ہیں، جن کا مقصد یہ چیک کرنا ہے کہ ملازمین نئے قوانین کی تعمیل کر رہے ہیں یا نہیں۔اسی طرح سرکاری ملازمین کو داڑھی نہ منڈوانے، مقامی لباس پہننے کی ہدایات کی گئی ہیں، جبکہ صحیح وقت پر نماز کی ادائیگی کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈریس کوڈ پر عمل نہ کرنے والوں کے دفاتر میں داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ انہیں برطرف بھی کردیا جائے گا۔ جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے پر بھی افغانستان میں طالبان کی حکومت نے پابندی لگا دی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاکہ افغانستان میں آزادی صحافت اور اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیاں بہت پریشان کن ہیں۔ پیٹر لمبورگ کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے مواد کے نشر کیے جانے کو مجرمانہ ٹھہرانا افغانستان میں ترقی کے مواقع کو روکنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ آزاد میڈیا ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ہم ہر وہ کام کریں گے، جس کے ذریعے ہم افغان عوام تک انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر جانبدارانہ معلومات پہنچاتے رہیں۔ادھر طالبان حکومت کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے طالبان انتظامیہ کے اس اقدام کو درست قرار دیا ۔ سمنگانی کے مطابق انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے، خاص طور پر ٹی وی پر نشر کردہ مواد پر طالبان کا کوئی کنٹرول نہیں کہ کس رپورٹر نے کیسا لباس پہنا رکھا ہے۔ انعام اللہ سمنگانی کا مزید کہا کہ بعض اوقات غیر ملکی میڈیا کی جانب سے ایسا مواد نشر کیا جاتا ہے، جو افغانستان کے مذہبی اور ثقافتی عقائد اور قومی مفادات کے خلاف ہوتا ہے۔ لہذا ٹی وی چینلز پر غیر ملکی میڈیا کے پروگراموں کے نشر کیے جانے کو بند کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں