جامعہ بلوچستان میں جائز حقوق کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی زبردست احتجاجی ریلی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے جانب سے جامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو درپیش مسائل جس میں مکمل تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بشمول اضافہ شدہ 44فیصد ہاوس ریکوزیشن، اردلی الاونس،یوٹیلٹی الاونس ،25فیصد ڈسپیریٹی الاﺅنس، ہاوس بلڈنگ ایڈوانس، ریٹائرڈ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی پینشنز کی بروقت ادائیگی، بائیومیٹرک حاضری، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ٹائم سکیل سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کےلئے پچھلے 26دنوں سے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آج سوموار کو جامعہ میں اپنے جائز حقوق کے لئے زبردست احتجاجی ریلی اور وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ ھوا، جس سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاھ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، محبوب شاھ، سید شاہ بابر نے خطاب کیا جبکہ تلاوت کلام پاک حافظ منیر احمد نے تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز کیا، مقررین نے کہاکہ جامعہ کے غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر، ٹریڑار، پرو وائس چانسلر ،رجسٹرار کی مسلسل ہٹ دھرمی اور جائز حقوق سے مسلسل اور قصدا انکار کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نے فیصلہ کیا کہ مورخہ12اپریل کو دن 11بجے جامعہ بلوچستان سے مرکزی احتجاجی لانگ مارچ گورنر ہاس کی طرف روانہ ہوگا اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ھوگا مقررین نے صوبائی حکومت کی طرف سے صوبے بھر کی جامعات کے لئے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ بل پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے تمام سرکاری جامعات کی پالیسی ساز اداروں خصوصا سنڈیکیٹ، سینٹ، اکیڈمک کونسل سے اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین، طلبا وطالبات یہاں تک کہ ممبران صوبائی اسمبلی کی منتخب نمائندگی یکسر ختم کرکے دراصل تمام سرکاری جامعات کو آمرانہ طرز پر چلانے کی مذموم سازش ہے یہ ایک تعلیم و صوبہ دشمن اقدام ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تمام اساتذہ کرام ،آفیسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وھ لانگ مارچ اور جامعہ بلوچستان میں دن گیارہ بجے آرٹس بلاک کے سامنے لانگ مارچ میں شرکت کےلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔


