بلوچستان اسمبلی اجلاس، حکومتی و اپوزیشن اراکین کا دو قوانین کے مسودہ پر اتفاق
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے باوجود بلوچستان یونیورسٹیز کا مسودہ قانون منظوراجلاس میں بلوچستان ہوم بیسڈ ورکرز کا مسودہ قانون بھی منظور کرلیا گیا،پیر کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا ،اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے بلوچستان یونیورسٹیز کا مسودہ قانون مصدرہ 2022ءمسودہ قانون نمبر 2 ایوان میں پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ مسودہ قانون کو بلوچستان اسمبلی کے قواعد و انضباط کار مجریہ 1974ء کے قاعدہ نمبر 84 اور 85 (2) کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ، اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بل پر ہمارے تحفظات ہیں ایکٹ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا لہذا مسودہ قانون کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے آئین کے تحت طریقہ کار بھی یہی ہے کہ جو ایکٹ ایوان میں آتا ہے اس کو متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کیا جاتا ہے برائے راست منظور کرنا ایوان اور کمیٹیوں کی توہین ہے اس میں سوائے قانون اور آئین پر عملدارآمد کے سوائے ہماری کوئی سوچ نہیں ،وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ایوان مسودہ قانون کی منظوری دے اس میں ترامیم کسی بھی وقت کرسکتے ہیں اگر کہیں کوئی کمی یا خامی ہوئی تو ایوان اور کابینہ میں بیٹھ کر اس کو ٹھیک کرسکتے ہیں وزیراعلی نے کہا کہ ہم ایک اچھا کام کرنے جارہے ہیں اپوزیشن لیڈر سمیت تمام ارکان مسودہ قانون کو منظور کریں بعد میں بھی اگر کہیں ضرورت ہوئی تو ترمیم کرلیں گے ، پشتونخوامیپ کے رکن نصراللہ زیرے نے بھی ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں منتخب عوامی نمائندوں ، اکیڈمک اسٹاف ، طلباءسمیت دیگر اسٹیک ہولڈز کو نظرانداز کیا گیا ہے ، بلوچستان میں تمام یونیورسٹیوں کے اپنے اپنے ایکٹ موجود ہیں ایسے میں نیا تجربہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، ایکٹ کو منظوری سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرکے ان کو اعتماد میں لیا جائے اور اس کیلئے ایکٹ کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا جائے ایکٹ میں بڑی خامیاں ہیں کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر اس کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ، صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ ملک کے تینوں صوبے اٹھارہویں ترمیم کے بعد اس ضمن میں قانون سازی کرچکے ہیں بلوچستان اسمبلی بھی اس مسودہ قانون کو منظور کرلے اگر اس میں کوئی کمی یا خامی ہے تو بعد میں بھی اس میں ترامیم کے ذریعے بہتری لائی جاسکتی ہے ، صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان نے کہا کہ باقی صوبوں نے اپنی اپنی ایچ ای سی بنالی ہیں جبکہ ہمارے پاس اب تک ایچ ای سی بھی نہیں اس مسودہ قانون کے تحت اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل نہیں کیا گیا ہے جہاں تک اٹھارہویں ترمیم کی بات ہے اس کے تحت اب تک ہمیں بہت سے حقوق نہیں ملے ہیں ،تاہم اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے اصرار کیا کہ چونکہ کمیٹیاں موجو د ہیں لہذا نظام کو بلڈوز اور کمیٹیوں کی توہین نہ کی جائے بلکہ مسودہ قانون متعلقہ کمیٹی کے حوالے کرکے اس کو پابند کیا جائے کہ دس دن کے اندر اندر مسودہ قانون کو دوبارہ ایوان میں لیکر آئے ہم صرف قانون کے مطابق بڑھنا چاہتے ہیں ،پارلیمانی سیکرٹری مٹھا خان کاکڑ نے کہا کہ بدنیتی کی بنیاد پر قانون سازی نہ کی جائے چونکہ گورنر پشتون ہیں اور گورنر کے پاس کوئی دوسرے اختیارات بھی نہیں یہ ایک اختیار بھی ان سے لیا جارہا ہے جو درست اقدام نہیں ،صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ ملک میں سب سے اہم دستاویز 1973ءکا آئین ہے مگر اس میں بھی کئی ایک ترامیم ہوچکی ہیں اٹھارہویں ترمیم کے تحت اب صوبے کو کچھ اختیارات مل رہے ہیں تو لیے جائیں ہم کسی قسم کے تعصب پر یقین نہیں رکھتے تعصبات سے بالا تر ہوکر کام کرتے ہیں صوبے میں بلوچ پشتون سمیت آباد تمام اقوام قابل احترام ہیں ہم صرف ایک قانون سازی کرنا چاہتے ہیں انہوں نے ڈپٹی اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں دو رائے آجائیں وہاں ووٹنگ کرائی جاتی ہے میری تجویزہے کہ اس پر ووٹنگ کرائی جائے ہم کسی کی دل آزاری نہیں کررہے جہاں تک بات گورنر کے پشتون ہونے کی ہے تو آئین میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ گورنر ہمیشہ پشتون اور وزیراعلیٰ بلوچ ہی ہوگا ، جبکہ آئین پاکستان میں ترمیم ہوسکتی ہے تو اس مسودہ قانون میں بھی ضرورت کے مطابق ترامیم ہوسکتی ہے ہم صوبہ اور اس ایوان کو تقسیم کرنے پر یقین نہیں رکھتے ، جمعیت علماءاسلام کے عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ مسودہ قانون کو یوں منظور کرنا نہ صر ف اسٹینڈنگ کمیٹیوں بلکہ پورے ایوان کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے اس مسودہ قانون میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کیا جارہا ہے ماضی میں یونیورسٹی ایکٹ میں عوامی نمائندوں ، اساتذہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈر کی نمائندگی ہوتی تھی جو اب نہیں ہے ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہم کو ایک بڑی کامیابی مل رہی ہے دوسرے صوبوں نے اس حوالے سے کامیابی حاصل کرلی ہے آج ہمارے پاس اختیارات آرہے ہیں تو بہتر بات ہے ایکٹ میں عوامی نمائندے شامل ہوتے ہیں عوامی نمائندوں سمیت اکیڈمک اسٹاف ، طلباء و تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہونی چاہیے جس کی وزیراعلیٰ بھی یقین دہانی کراچکے ہیں کہ ایسا کیا جائیگا جس کے بعد ہمیں یہ ایکٹ کو آج منظور کرلینا چائیے اور اپوزیشن کے نقاط کو بھی بعد میں ایکٹ میں شامل کیا جائے ،صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایوان میں یقین دہانی کراچکے ہیں اور ہم ایک اچھی چیز کی بنیاد رکھ رہے ہیں تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں اس مسودہ قانون کو بلڈوز نہ کیا جائے ، بی این پی کے حمل کلمتی نے بھی مسودہ قانون کی حمایت کرتے ہوئے تجویز دی کہ اس پر رائے شماری کرائی جائے ،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے کہا کہ مسودہ قانون پر تعصب کی بنیاد پر مخالفت کی جارہی ہے بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ قوم کو نظرانداز کیا گیا ہے اور یہاں بھی تعصب پر مبنی بات ہورہی ہے ارکان کی طویل بحث کے بعد رائے شماری کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی رائے سے مسودہ قانون کو بلوچستان اسمبلی کے قوائد انضباط کار مجریہ 1974 ء کے قائد نمبر 84 اور 85 (2) کے تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی رولنگ دی جس پر وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے بلوچستان یونیورسٹیز کا مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دی قبل ازیں پشتونخوامیپ کے نصراللہ زیرے ، سید عزیز اللہ آغا ، عبدالواحد صدیقی ، مٹھا خان کاکڑ ، انجینئر زمرک اچکزئی ، نعیم بازئی ، شائینہ کاکڑ نے واک آوٹ کیا ، اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے بلوچستان ہوم بیسڈ ورکرز کا مسودہ قانون مصدرہ 2022 مسودہ قانون نمبر دس ایوان میں پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دی۔اجلاس میںاپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے پوائنٹ آف اارڈر پر اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات 6 ماہ کیلئے ملتوی کیے جانے سے متعلق قرار داد منظور کی گئی ، اس قرار داد کو دیکھا جائے تاکہ انتخابات کیلئے چھ ماہ کا وقت مل سکے اس وقت اس حوالے سے تذبذب کی کیفیت ہے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے انہیں بتایا کہ قرارداد پر منظوری کے بعد پیشرفت ہوئی ہے اور قرارداد متعلقہ حکام کو بھجوادی گئی ہے ، ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور عوامی احتجاج کے بعد کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے حلقوں کی تعداد 58 سے بڑھا کر 84 تو کردی ہے مگر حلقہ بندیاں درست انداز سے نہیں کی گئی ہیں پسند و ناپسند کی بنیاد پر حلقے نہ بنائے جائیں بلکہ پرانے طریقہ کار کے مطابق حلقہ بندیاں کی جائیں ، صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ ایوان کی قرارداد منظوری کے بعد متعلقہ حکام کو بھیجنے کیساتھ وزیراعلیٰ نے بھی الیکشن کمیشن حکام سے رابطہ کیا ہے جبکہ میں نے بلوچستان سے ممبر الیکشن کمیشن شاہ محمد جتوئی سے بھی اس سلسلے میں بات کی ہے جہاں تک حلقہ بندیوں کا تعلق ہے یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے، پشتونخوامیپ کے نصر اللہ زیرے نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ وہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال اور پشتونخوامیپ سندھ کے رہنماء کے ہمراہ اسلام آباد سے کوئٹہ آرہے تھے ، خیبرپختوانخوا سے صوبے میں داخل ہوتے ہی شیرانی ڈسٹرکٹ میں دہانہ سر میں واقع ایف سی کی چیک پوسٹ سے دو فرلانگ پہلے ایک نوجوان کی گاڑی خراب کھڑی تھی اور مذکورہ نوجوان نے گاڑی خراب ہونے پر رات خاندان کیساتھ وہیں گزاری تھی ہم نے کہیں سے رسی ڈھونڈ کر نوجوان کی گاڑی ٹوچین کی اور روانہ ہوئے ، ایف سی کی چیک پوسٹ چڑھائی پر واقعہ ہے ایف سی کے جوان کو ہم نے بتایا کہ ہم ایک گاڑی کو اپنے ساتھ کھینچ کر لارہے ہیں اگر ہم نے اپنی گاڑی روک لی تو پھر دوبارہ چڑھائی پر چڑھنا مشکل ہوجائے گا ، میں نے ان سے اپنا اور عبدالرحیم زیارتوال کا تعارف بھی کرایا اس کے باووجود ایف سی کے جوانوں نے غلط رویہ اختیار کرتے ہوئے بدتمیزی کی ، وہاں سے آگے چل کر سب سے پہلے اانے والے پولیس اسٹیشن سے میں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کو فون کرکے واقعہ کی اطلاع دی انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کا نوٹس لیا اور مذکورہ چیک پوسٹ ہٹائی جائے ، جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس جمعرات 14 اپریل دن ایک بجے تک ملتوی کردیا گیا۔


