پاکستانی سیمنٹ فیکٹریاں افغانستان سے کوئلہ در آمد کرنے لگیں رپورٹ

اسلام آباد:پاکستان کی سیمنٹ فیکٹریاں افغانستان سے سستا کوئلہ درآمد کرنے لگیں،عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمت ایک سال میں 140سے بڑھ کر 375ڈالر فی ٹن ہوگئی،افغان کوئلہ 45فیصد سستا، افغانستان سے کوئلے کی درآمدات 5 لاکھ ٹن ماہانہ ہو گئی۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیمنٹ فیکٹریاں بڑی حد تک افغان کوئلے کی طرف منتقل ہو گئی ہیںجوعالمی منڈی کے مقابلے میں 40 سے 45 فیصد سستا ہے۔سیمنٹ فیکٹریوں کے افغان کوئلے کی طرف منتقل ہونے کی ایک اور وجہ خام تیل اور قدرتی گیس جیسے متبادل ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ سیمنٹ کی پیداوار کی لاگت کا تقریبا 50 سے 60فیصد ایندھن کا ہوتا ہے۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی نے ایندھن کی عالمی مارکیٹ کو متاثر کر دیا ہے، پاکستان جیسی غریب معیشتیں درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔کوئلے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ سے سیمنٹ انڈسٹری کو کوئلے کی قلت کا سامنا ہے۔ پچھلے سات مہینوں میں کوئلے کی قیمت بڑھ کر 235 ڈالر فی ٹن ہوگئی ہے۔ اگست 2021 میں کوئلے کی عالمی قیمت 140 ڈالرفی ٹن تھی جو اب بڑھ کر 375 ڈالرفی ٹن ہوگئی ہے۔ایشیا اور آسٹریلیا میں انڈونیشیا کی جانب سے کوئلے کی برآمد پر پابندی اور آسٹریلیا میں شدید بارشوں کی وجہ سے سپلائی پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے، اگر روس اور یوکرائن کے درمیان جاری تنازعہ بڑھتا ہے اور مزید براہ راست اور بالواسطہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، تو کوئلے کی قیمتیں 500 ڈالرفی ٹن تک بڑھ سکتی ہیں۔پہلے افغان کوئلہ بینچ مارک رچرڈ بے کے مقابلے میں 25 فیصد کم پر تجارت کرتا تھا لیکن فی الحال اس رعایتی فرق میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ افغان اور مقامی کوئلہ اس وقت تقریبا 170 سے 200ڈالرفی ٹن پر تجارت کر رہا ہے۔میپل لیف سیمنٹ فیکٹری لمیٹڈ کے مطابق افغانستان سے کوئلے کی درآمدات گزشتہ موسم گرما میں بڑھ کر تقریبا 5 لاکھ ٹن ماہانہ ہو گئیںاور اب یہ پاکستان کی کچھ فیکٹریوں کے لیے سپلائی کا 70 فیصد بنتا ہے۔میپل لیف کے چیف فنانشل آفیسر محسن رضا نقوی نے ایک بریفنگ میں کہا کہ افغانستان پیداوار بڑھا رہا ہے، لیکن تجارت ابھی تک غیر منظم ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کار کوئلے کی مقامی کرنسی میں ادائیگی کرتے ہیں اور پھر افغان تاجر اس رقم کو پاکستان سے گندم اور گوشت جیسی اشیا ءخریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں