سابق گورنر کے اعتراضات کے بعد بلوچستان یونیورسٹیز کامسودہ قانون 2022ء دوبارہ منظور

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی نے سابق گورنر کے اعتراضات کے بعد بلوچستان یونیورسٹیز کامسودہ قانون 2022دوبارہ منظور کرلیا پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے کا اجلاس سے واک آؤٹ، تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹیز کامسودہ قانون 2022منظور کر نے کے بعد توثیق کے لئے گورنر بلوچستان کو بھجوایا گیا تھا جس پر سابق گور نر سید ظہور آغا نے 13اپریل کو 7صفحات پر مشتمل متعدد اعتراضات لگا کر اسے اسمبلی کو واپس بھیج دیا تھا تاہم منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے قبل اجلاس کا نظر ثانی شدھ ایجنڈا جاری کیا گیا جس میں یونیورسٹیز قانون کو شامل کیا گیا اجلاس کے دوران صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے بلوچستان یونیورسٹیز کا مسودہ قانون 2022پیش کیا جس پر پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ زیرے سمیت دیگر ارکان نے احتجاج کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اجلاس سے واک آؤٹ اسمبلی نے بلوچستان یونیورسٹیز کا مسودہ قانون 2022قواعد انضباط کار بلوچستان صوبائی اسمبلی مجریہ 1974کے قاعدوں کے تقاضوں سے ایگزیمپٹ قرار دیتے ہوئے دوبارہ منظور کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں