کوئٹہ،عید قریب آتے ہی بازاروں میں قیمتیں آسمان چھونے لگیں، پرائس کنٹرول کمیٹیاں غائب
کوئٹہ؛صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میں عید کے قریب آ تے ہی عوام کا جم غفیر امڈ آ یا،گا ہکوں کی بھر ما ر دیکھ کر دکانداروں،ہیئر ڈریسرز،قصائیوں،اشیا ئے خورد و نو ش،بیکری ما لکان، ٹرانسپورٹرز و دیگر نے چھریاں تیز کر لی اور عوام سے مختلف آ ئٹمزکی منہ ما نگی قیمتیں وصول کرنے کا سلسلہ اپنے عروج کو پہنچ چکا ہے ایسے میں ضلعی انتظا میہ،ٹرانسپورٹ اتھاریٹیز اور پرایس کنٹرول کیٹی کا کردار خاموش تما شائیوں سے زائد نہیں، دوسری جا نب شہر میں جیب کتروں نے بھی اپنے ہا تھوں کی صفا ئی دکھا نا شروع کر دی ہے اور گزشتہ روز بھی مختلف افراد کے جیبوں کاصا فا یا کر دیا گیا۔تفصیلا ت کے مطابق صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میں عید کے قریب آ تے ہی عوام کا سیلا ب امڈ آ یا ہے اشیا ئے خورد و نو ش کی دکانیں ہوں یا پھر درزی، ہیئر ڈریسرز،و دیگر کی میں عوام کا زبردست رش دیکھنے کو مل رہا ہے گا ہکوں کی بھر ما ر دیکھ کر دکانداروں نے بھی چھریاں تیز کر لی ہیں اور وہ عوام سے مختلف آئٹمز کے منہ ما نگی قیمتیں وصول کر رہے ہیں ہیئر ڈریسرز نے عوام کی رش کے پیش نظر با ل،داڑھی اور شیو کرنے کے ریٹس بھی اپنے طو ر پر بڑھا دئیے ہیں جبکہ قصائیوں نے گوشت، پولٹری مصنو عات والوں نے مرغی کے گوشت اور انڈوں،درزیوں نے کپڑوں کی سلا ئی و دیگر کی قیمتیں ازخود بڑھا دی ہیں جبکہ رکشے، ٹیکسی،کو چز اور ویگن ما لکان نے بھی اپنے طور پر من ما نے کرا یوں کی وصولی شروع کر دی ہیں دوسری جا نب اس تمام تر صورتحا ل میں ضلعی انتظا میہ،ٹرانسپورٹ اتھارٹیز اور پرائس کنٹرول کمیٹی کا کہیں کو ئی سروکار نظر نہیں آ رہا عوام کو شکا یا ت ہیں کہ ہر سال کی طرح امسال بھی عید کے قریب آ تے ہی ان کی کھال اتا ری جا رہی ہے ایک طرف پہلے سے ہی مہنگا ئی کا طوفان ہے تو دوسری جا نب خودساختہ طور پر ہر چیز کے ریٹس بڑھا دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے غریبوں کی عید کی خوشیاں ما ند پڑ چکی ہیں اور وہ مختلف اشیا ء کی قیمتیں پوچھ کر اپنا راستہ لے لیتے ہیں ادھر کو ئٹہ شہر میں جیب کتروں نے بھی عوام کے جیبوں پر ہا تھ صاف کر نے شروع کر دیا ہے گزشتہ روز بھی متعدد لو گوں کو جیب کاٹنے اور مو با ئل فونز جیبوں سے نکا لنے کی شکا یا ت رہی عوامی حلقوں نے حکومت اور انتظا میہ سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کا نوٹس لیں اور گراں فروشی کر نے والوں کے خلا ف کا رروائی عمل میں لا ئے۔


