عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں سے محنت کش طبقہ خودکشیوں پر مجبور ہیں، جمال شاہ کاکڑ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صدر وسابق سپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ آج پورے ملک سمیت بلوچستان بھر میں مزدور اور محنت کش طبقہ اور ملازمین پر مہنگائی بیروز گاری کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، ملک میں عالمی اداروں کی پالیسیوں کو دوام دینے کیلئے ملک کے بڑے اور منافع بخش ادارے سابق حکومت کے حوالے کرکے پاکستان پوسٹ ریلوے پاور کمپنیوں سمیت دیگر بڑے منافع بخش اداروں کی بولیاں لگادی گئی ہیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے غریب عوام اور محنت کش طبقہ خودکشیوں پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ان خیالات کااظہار جمال شاہ کاکڑ نے مزدور یونین کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں 1886 کے شکاگو کے عظیم مزدور رہنماں اور محنت کش شہداکو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے شکاگو کے عظیم جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے نعرے لگائے اس موقع پر مہنگائی بیروز گاری غربت اور کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مزدوروں و ملازمین کے مسائل حل نہ ہونے کیخلاف بھی آواز بلند کی گئی آج پورے ملک سمیت بلوچستان بھر میں مزدور اور محنت کش طبقہ اور ملازمین پر مہنگائی بیروز گاری کے پہاڑ توڑے جار رہے ہیں، ملک میں عالمی اداروں کی پالیسیوں کو دوام دینے کیلئے ملک کے بڑے اور منافع بخش ادارے سلیکٹیڈ عمران خان حکومت کے حوالے کرکے پاکستان پوسٹ ریلوے پاور کمپنیوں سمیت دیگر بڑے منافع بخش اداروں کی بولیاں لگادی گئی ہیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے غریب عوام اور محنت کش طبقہ خودکشیوں پر مجبور ہوچکے ہیں یہ تمام تر صورتحال بلوچستان سمیت ملک بھر میں بلا رنگ و نسل بلا تفرقی منظم بنیادوں پر جدوجہد کا مطالبہ کرتی ہے اور محنت کش طبقہ کو موجودہ حالات پر نظر رکتھے ہوئے ایک طبقاتی جڑت اپنانا ہوگی تاکہ موجودہ گھمبیر مسائل کے حل کیلئے منظم بنیادوں پر جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا اور بلوچستان میں مزدوروں و ملازمین کو گمراہ کرکے ذاتی مفادات حاصل کرنے والے خود ساختہ اور پاکٹ یونین رہنماں کا احتساب کرنا ہوگا مزدور رہنماں نے کہا کہ اپنے مسائل کے حل اجرت میں اضافے، اوقات کار کے گھنٹوں کا تعین کرنے اور اسی طرح کے نعرے اور مسائل کے حل کیلئے ایک سوچ اور فکر کو لیکر شکاگو کے عظیم مزدور رہنمااور محنت کش آج سے 136 سال قبل میدان میں اترے اور 1886 کے امریکی شہر شکاگو میں اپنے جائز مطالبات کے حل کیلئے مختلف صنعتوں کارخانوں اور مزدور تنظیموں کے دفاتر سے نکلنے والے احتجاجی جلوس ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کرگئی اس دوران وقت کے ظالم حکمرانوں سرمایہ دار طبقہ نے 1886 میں محنت کش طبقے کی اس زبردست تحریک کو کچلنے کیلئے وقت کی امریکی ریاست کو مزدوروں کیخلاف اکسایا اور امریکی فورسز نے اپنے مطالبات کے حل کیلئے شکاگو شہر میں پر امن احتجاج کرنے والے مزدوروں پر فائرنگ کردی جس سے کئی مزدور جاں بحق ہوئے یہ وہ لمحہ تھا جب اس وقت کے مزدوروں کی نڈر اور با ہمت قیادت نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا شکاگو سمیت پورے امریکہ میں ہڑتال کا اعلان ہوا اور یہ تحریک ایک عالمی تحریک کا روپ اختیار کرگئی آج عالمی یوم مزدور یکم مئی کی مناسبت سے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 1886 کے شکاگو کے عظیم مزدور رہنماں اور محنت کش شہداکولازوال قربانی دینے کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔


