ملیر ایکسپریس وے منصوبے کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

کراچی، اینٹی ملیر ایکسپریس وے ایکشن کمیٹی کے رہنما اسلم بلوچ اوردیگر نے عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی آبادی کے لیے خطرہ ہے بلکہ شہر کے ماحول پر بھی حملہ ہے، ہم اس منصوبے کے خلاف عوامی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر اینٹی ملیر ایکسپریس وے ایکشن کمیٹی کے حنیف فراز، ابوبکر بلوچ، حفیظ بلوچ ودیگر بھی موجود تھے، اسلم بلوچ نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کراچی کی ماحولیاتی شہ رگ پر حملہ اور عوام کے 160 ملین ڈالرز کا ضیاع ہے، انھوں نے کہا کہ کراچی کے تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ منصوبہ کراچی کی ماحولیاتی شہ رگ ملیر کی زرعی زمینوں کو کاٹ کر فقط اس لیے تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ حالیہ دنوں ملیر کی زرعی زمینوں پر بڑے پیمانے پر قبضہ کرکے ہاؤسنگ تعمیرات کی قیمت بڑھائی جاسکے اور اس کا واحد مقصد کراچی کی اشرافیہ کو براہ راست راستہ فراہم کیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسسمنٹ رپورٹ کراچی کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے جس میں نہ تو اس علاقے کے عوام، منتخب عوامی نمائندوں نہ ہی شہری پلاننگ اور ماحولیاتی ماہرین کی بات کو سنا گیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس علاقے میں پانی کے وسائل محدود ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت ایسے 27 کنویں براہ راست متاثر ہوں گے جو ملیر کی بہت بڑی زرعی اراضی کو پانی فراہم کررہے ہیں، اس کے ساتھ اس سے ملیر ندی میں گرنے والی دیگر ندیوں کا بہاؤ بھی متاثر ہوگا جس سے نہ صرف شہر کے بڑے حصے کے لیے پانی کے مسائل بڑھیں گے بلکہ زرعی زمینوں تک پانی کی رسائی ختم ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ، لوگ بے روزگار اور زرعی پیداوار کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ ہوگا، سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ منصوبہ 39 کلومیٹر کی جنگلی حیات کی نقل وحرکت میں خلل کا باعث بنے گا جسے رپورٹ میں کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ ڈیٹا کے مطابق یہ منصوبہ1500 سے زائد لوگوں کی رہائش،210 مستقل مکانات،66.35 ایکڑ نجی زرعی اراضی اور 49 ایکڑ تعمیرات کو تباہ کرے گا، اس کے علاوہ کئی مذہبی، تاریخی اور آثار قدیمہ کے مقامات بھی اس منصوبے کا نشانہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ متبادل کے نام پرہمیں لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کی طرح شہر سے باہر کہیں پھینک دیا جائے گا لہٰذا ملیر کی عوام اس غنڈہ گردی اور پاکستان بننے سے قبل آباد ان زمینوں کو تباہ کرنے کی سختی سے مخالفت کرتی ہے، کراچی کے عوام ملیر ایکسپریس وے کے منصوبے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور اس کے خلاف قانونی اور سیاسی مزاحمت کو مزید تیز کرنے کا عزم کرتے ہیں، کراچی کے ماحول اور ملیر کی آبادی کی بقاء کے لیے ایکسپریس وے کا راستہ تبدیل کرنا ضروری ہے اور ہم اس کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں