علماء سیاسی بلیک میلنگ کو حق و باطل کی کشمکش سمجھنے کی غلطی نہ کریں،مولانا شیرانی
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ محدود ذاتی اور سیاسی مفادات کیلئے مسجد کے منبر و محراب کا استعمال اور علماء کو معاشرے کے ساتھ دست و گریبان کرانے کی کوشش کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ہم نے اس سلسلے میں عمران خان سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے حامیوں کو اس الزام بازی کی وجہ سے تمام علماء کے بارے منفی رائے قائم کرنے سے گریز کی ہدایت کرے اور اس کے ساتھ تمام علماء اور ارباب مدارس سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ وہ سیاسی بلیک میلنگ کو حق و باطل کی کشمکش سمجھنے کی غلطی نہ کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرعلی خیل میں اپنے رہایش گاہ پر عید ملنے کیلئے صوبہ بھر سے آنے والے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام میں گہری جڑیں رکھنے والی ملک کے ایک بڑی جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے مگر ان کے ساتھ سیاسی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے بعض علماء کی جانب سے ان کے خلاف یہودی لابی اور توہین مذہب جیسے کارڈ کھیلے جارہے ہیں اور اس مقصد کیلئے عید اور جمعہ کے خطبات اور مسجد کے اجتماعی فورم کو بھی گھسیٹا جارہا ہے جس کی وجہ سے حالیہ ہفتوں خطباء و ائمہ اور نمازیوں کے درمیان کچھ تشویشناک واقعات پیش آئے ہیں اگر اس سلسلے کو نہ روکا گیا تو اس کے مضمرات اچھے نہیں ہوں گے انہوں نے کہا کہ عمران خان سے کہاہے کہ عالمی فورمز پر اسلاموفوبیا سے متعلق آپ کی کاوشیں قابل تحسین ہے مگر اسلاموفوبیا کی اصطلاح درست نہیں دنیا میں لوگ اسلام کی تعلیمات سے نہیں بلکہ عام مسلمان افراد میں جھوٹ دھوکہ دہی وعدہ خلافی جیسے اخلاقی عادتوں سے خوف محسوس کرتے ہیں اس لئے یہ اصطلاح اسلاموفوبیا نہیں بلکہ مسلمانو فوبیا ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ہمارے ملاقات کا ایک مقصد انہیں یقین دلانا تھا کہ وہ ایک مخصوص گروہ کے الزام بازی کے عمل کو علماء کرام کے پورے طبقے سے منسوب نہ کرے انہوں نے کہا کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی کے حوالے سے ہمارا اور پی ٹی آئی کا موقف ایک ہے امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو حق نہیں کہ پاکستان میں رڑیم چینج کے سلسلے میں کوئی بھی مداخلت یاسازش کریں اور دنیا کے تمام انسانوں کی طرح ہمارا بھی یہ حق ہے کہ آزاد اور باعزت زندگی گزاریں اس موقف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کسی ملک کو دشمن سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ داخلہ پالیسی کے حوالے سے بھی ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ اس موقف کے اوپر اتفاق رائے ہے کہ ملک کے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کرنا ملکی سالمیت کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے اس لئے کہ بطور ادارہ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کی بین الاقوامی مجبوریاں ہیں مگر اس ادارے کے افراد کی ہمدردیاں اپنے ملک اور عوام کے ساتھ ہیں ضرورت اس امر کاہے کہ ادارے کی مجبوریاں تسلیم کی جائیں جبکہ افراد کی ذاتی ہمدردی سے استفادہ کیا جائے لہذا اسٹیبلشمنٹ کو کلیتا دشمن سجھنا یا بالکلیہ دوست سمجھنا دونوں صورتیں افراط و تفریط پر مبنی ہیں فوج کو سیاسی محاذ آرائی میں گھسیٹنے کا نتیجہ بیرونی قوتوں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ کبھی عوامی قوتوں کو کمزور کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے پشت پر کھڑے ہوں اور کبھی اسٹیبلشمنٹ کو دبانے کیلئے عوامی قوتوں کے سروں کے اوپر دست شفقت رکھے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ملاقات میں انہیں تجویز دی ہے کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان اور تحریک انصاف کے درمیان مشترکہ امور میں اشتراک عمل کیلئے اضلاع صوبوں اور مرکز کے سطح پر دونوں جماعتوں کے کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دینی چاہیے اور اس حوالے سے عنقریب پیشرفت سامنے آجائے گی –


