مویشیوں کی ویکسین مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے، انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا،عمران ترین، حاجی نصرالدین کاکڑ، یعقوب شاہ کاکڑ، ، میر رحیم بنگلزئی ،حاجی حبیب اللہ موسی خیل ، حاجی فرید کھیتران، فاضل ترین شاہ محمد ترین ، گلستان مندوخیل ، میر ملک بنگلزئی، ملک بہادر ملیزئی، آدم خان حمزہ زئی، اسلم اچکزئی، اور دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے اکثریت عوام کے ذریعہ آمدن کا انحصار مال مویشی کے کاروبار پر منحصر ہیں اور اب جانوروں میں ایک وائرس آیا ہوا ہے جس سے باقی صوبوں کے مال مویشی کے کاروبار سے منسلک افراد کو کافی نقصان اٹھانا پڑا اور اب یہ وائرس بلوچستان کے جانوروں میں بھی پایا گیا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت اور لائیو سٹاک کے پاس اسکی ویکسین موجود نہیں ہے اور مال بردار افراد سرکاری ویکسین مجبوری کے تحت مہنگے داموں میں خرید رہے ہیں جوکہ بلوچستان کے عوام اور مال مویشی کے کاروبار کو ختم کرنے کے مترادف ہے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ خشک سالی اور زراعت کے شعبے کی تباہ حالی کے بعد مویشی کے کاروبار کو بھی تباہ کیا جارہا ہے اور اس وائرس سے بلوچستان میں مویشی کے کاروبار سے وابستہ تاجر تباہ ہوجائینگے اور کہا ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک کی عدم دلچسپی پر تشویش ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس وائرس کی ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جو لوگ اس ویکسین کو پرائیویٹ فروخت کررہے ہیں انکے خلاف کارروائی کریں اور بلوچستان کے تمام اضلاع میں جانوروں کیلئے ویکسینیشن سینٹر قائم کریں تاکہ اس وائرس کی روک تھام ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں