فوری انتخابات یا نگران حکومت ،وزیر اعظم نے آج اجلاس بلا لیا
اسلام آباد /لندن (انتخاب نیوز)سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو چیلنجز سے نکالنے کےلئے سب سے مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو ٹیلی فون کیا اور انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع کے مطابق معاشی پیکج اور انتخابی اصلاحات کی صورتحال کے پیش نظر قائد ن لیگ نواز شریف نے اتحادی جماعتوں کے آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سردار اختر مینگل، خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی، محمود اچکزئی و دیگر سے ٹیلیفونک رابطے کئے۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا، عوام کو ریلیف دینے اور سبسڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی، اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے نواز شریف کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سب سے مل کر ایک متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں۔ذرائع کے مطابق نوازشریف نے کہاکہ پاکستان کو چیلنجز اور بحران سے نکالنا اولین ترجیح ہے ، جلد عوام کو مشکلات سے چھٹکارہ حاصل ہوگا ۔وزیراعظم شہباز شریف نے مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اجلاس (آج)پیر کو طلب کرلیا، جس میں فوری انتخابات اور نگراں حکومت کے معاملے پر مشاورت کی جائے گی اور حکومتی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔حکومتی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس پیر کو ہوگا، جس میں ملکی کی موجودہ معاشی صورت حال، آئی ایم ایف سمیت دیگر معاملات کا جائزہ لے کر اتحادیوں کی حمایت و تائید سے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ فوری اسمبلیاں توڑنے کا کوئی آپشن زیر غور نہیں تاہم شہباز شریف حکومت کے مستقبل سے متعلق آپشنز اور لندن دورے میں طے پانے والی چیزوں کو اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے، حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ تین سے چار مہینے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ حکومت کی جانب سے لیے گئے سخت فیصلوں کو تمام اتحادی جماعتیں اون کریں کیونکہ اسمبلیاں توڑنے سے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے، اگر اسمبلیاں توڑ دیں تو نگران حکومت میں معیشت کا زیادہ برا حال ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے سبسڈی نہیں دی جا سکتی۔حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ نیا معاہدہ طے پاتے ہی دوست ممالک پاکستان کی کھل کر مدد کریں گے، تین سے چار مہینے کی مشکلات کے بعد معیشت مستحکم ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق اتحادی جماعتوں کی حمایت و تائید کے بعد حکومت حتمی فیصلہ کرے گی، اگر اتحادی متفق ہوئے تو پھر انتخابات ہی واحد حل ہوں گے، اجلاس میں فوری طور پر انتخابی اصلاحات اور نگران سیٹ اپ پر مشاورت کی جائے گی، اس حوالے سے حکومت پاکستان تحریک انصاف سے بھی رابطہ کرے گی اور اگر پی ٹی آئی نے دلچسپی نہ دکھائی تو اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کر کے معاملات کا فیصلہ کرلیا جائے گا۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ حکومت فیصلے جلد بازی میں نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ طے کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف لوڈشیڈنگ میں اضافے اور عوام کی مشکلات پر برہم ہیں اور ان کا وطن وپسی پر آئندہ 2 روز میں قوم سے خطاب متوقع ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف نے آصف زرداری ، مولانا فضل الرحمان ، سردار اختر مینگل ،خالد مقبول صدیقی ، خالد مگسی ،محمود اچکزئی و دیگر سے روابط کیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے آئندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات سے متعلق ن لیگ کے فیصلوں پر اعتماد میں لیا اور عوام کو ریلیف دینے اور سب سڈی کو محدود کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے بھی نواز شریف کو اپنے موقف سے آگاہ کیا ، نوازشریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کردی ہے۔اسکے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف کا آئندہ دو دن میں قوم سے خطاب متوقع ہے۔وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی تمام صورت حال رکھیں گے۔


