پاکستان کا درخشندہ مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے، جان محمد جمالی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے کہا کہ صوبہ بلوچستان کی جغرافیائی انفرادیت، عالمی قوتوں کی خصوصی دلچسپی کے تناظر میں ہمیں اپنا لائحہ عمل سائنسی بنیادوں پر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا درخشندہ مستقبل بلوچستان سے وابستہ ہے۔ اسکے قدرتی اور معدنی وسائل کو درست طور پر بروئے کار لایا جائے تو بلوچستان میں پسماندگی دور کرنے، پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور پورے خطے میں موثر معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کے روز بیوٹمز یونیورسٹی میں بلوچستان تھینک ٹینک نیٹ ورک کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمنار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کے وائس چانسلر صاحبان، سابق گورنر امان اللہ خان یاسین زئی، بریگیڈیئر آغا احمد گل سمیت محققین، دانشور حضرات اور یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قائمقام گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی نے صوبے بھر کے جوانوں کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں اور بلوچستان میں ترقی کے عمل اور ممکنہ مستقبل سے متعلق اپنے خیالات اور آراء کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازوں کیلئے صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں کے عوام کو درپیش مسائل ومشکلات کی الگ الگ تفہیم ضروری ہے تاکہ بہتر طور پر لوگوں کی ضروریات کے مطابق طویل المدت منصوبہ بندی کی جاسکے۔ قائمقام گورنر بلوچستان نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بلوچستان وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل ہے، قدرتی اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے جبکہ اسکی آبادی قلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی میں انتظامی آفیسرز اور اہلکاران اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قائمقام گورنر بلوچستان صوبے کے مختلف علاقوں میں پانی کی کمی کے مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ اس مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائے۔ آخر میں میر جان محمد جمالی نے بلوچستان تھینک ٹینک نیٹ ورک کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمنار کے شرکاء اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کئے۔


