دالبندین، ایرانی پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر ٹرانسپورٹروں اور تاجروں کی تشویش
دالنبدین (انتخاب نیوز) دالبندین میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے پر ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کا اظہار تشویش۔ چاغی سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے ایرانی پیٹرول استعمال ہوتا ہے، گزشتہ روز پاکستانی پیٹرول کی قیمت بڑھ جانے کے ساتھ ہی دالبندین اوپن منی پمپ والوں نے پیٹرول کی قیمت میں یکدم 30 سے چالیس روپے اضافہ کردیا، جو چاغی عوام کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے دالبندین سمیت ضلع بھر میں پیٹرول کمیٹی کے نام پر مافیا نے روپ دھار لیا ہے، اپنی من مانی کے تحت مصنوعی مہنگائی کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور پیٹرول مافیا لاکھوں روپے غریب عوام کی جیبوں سے نکال رہی ہے۔ ضلع کے اندر ایرانی پیٹرول 125سے 160 اور 170 تک پہنچا دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بارڈر سے ایرانی پیٹرول پاکستانی 90 سے لیکر سو روپے تک پہنچ جاتا ہے اسکے با وجود فی لیٹر پر 60 سے 70 روپے کمانا کہاں کا انصاف ہے، تاجر برادری کا کہنا تھا کہ ایرانی بارڈر سے جو پیٹرول اور ڈیزل آتا ہے اس سے علاقے کی بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار وابسطہ ہے، اس کا قطعاً یہ مقصد نہیں ہونا چاہیے کہ وہ چاغی کے غریب لوگوں کو لوٹیں۔ اس وقت ضلع بھر میں پاکستانی پیٹرول مکمل طور پر ناپید ہے، ایرانی پیٹرول کی قیمت بھی مقامی کمیٹی مافیا کے ذریعے بڑھا دی گئی ہیں۔ تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور عوامی حلقوں نے کمشنر رخشان ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے خدارہ چاغی عوام کے لیئے تیل کمیٹی والوں کو بلا کر پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کا نوٹس لیکر مقامی لوگوں کے لیئے عملی طور پر سرکاری سطح پر قیمت ترتیب دی جائے۔


