غذائی قلت سے عالمی قحط پھیلنے کا خدشہ، ورلڈ بینک کا انتباہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک نے رواں سال کے لیے اپنے شرح نمو کے تخمینے میں ایک فیصد سے زیادہ کمی کر دی ہے۔ بینک کے ماہرین نے "اسٹیگ فلیشن” کے خطرے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا، جو زیادہ افراط زر اور سست نمو کا مرکب ہے۔ عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا، ”بہت سے ممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا۔“عالمی بینک نے رواں سال شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے جنوری میں سن 2022ءکےلئے شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ عالمی بینک نے آئندہ مالی سال یعنی 2023ءاور 2024ءکے لیے پیداواری شرح میں صرف تین فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ بینک کو توقع ہے کہ رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر دیگر اشیاءکی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے موجودہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا موازنہ سن 1980ءکی دہائی کے تیل کے بحران سے کیا ہے۔مالپاس کا مزید کہنا تھا، ”اب بہت سے ممالک میں افراط زر کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جبکہ رسد میں آہستہ آہستہ اضافے کی توقع ہے، اس صورتحال کے باعث افراط زر لمبے عرصے تک بلند رہنے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں