بلوچستان اسمبلی اجلاس میں پانچ مسودہ قوانین کی منظوری دیدی گئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی نے پانچ مسودہ قوانین کی منظوری دے دی دو مسودہ قوانین کی منظوری قائمہ کمیٹیاں دے چکی تھیں جبکہ تین مسودہ قانون قائمہ کمیٹیوں کی منظوری کے بغیر ہی منظور کرلئے گئے،قائم مقام اسپیکر نے صوبائی اسمبلی کی نئی حلقوں بندی پر تحفظات دور کرنے کیلئے چیف الیکشن کمشنر سے اراکین اسمبلی کی ملاقات کیلئے لیٹر لکھنے کی رولنگ دے دی۔بلوچستان اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر بابر موسی خیل کی زیرصدارت سوادوگھنٹے کی تاخیر سے منعقد ہوا،اجلاس میں بلوچستان آرمز،صنعتی تعلقات،کمپنیوں کے منافع،بلوچستان ورکرز ویلفیئر فنڈ اور گنے کی خرید و فروخت اور فیکٹریوں میں استعمال کے مسودہ قوانین منظوری کیلئے اسمبلی میں پیش کئے جو ایوان نے منظور کرلئے، پوائنٹ آف آرڈر پر رکن اسمبلی مبین خلجی نے ایوان کی توجہ صوبائی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کی جانب مبذول کرائی،ان کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں سے کوئٹہ کے تمام اراکین متاثر ہوئے ہیں،الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے،قائم مقام اسپیکر بابر موسی خیل نے رولنگ دی کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، ہم چیف الیکشن کمشنر کو چیمبر میں طلب نہیں کرسکتے ہیں، سیکرٹری اسمبلی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لئے لیٹر لکھ دیں جس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔


