70 سال بعد بھی تعلیمی ادارے تباہی سے دوچار ہیں، اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ
وندر (انتخاب نیوز) اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ کی جانب سے گزشتہ روز گورنمنٹ ڈگری کالج وندر،گورنمنٹ بوائز ہائی سکول وندر کے طلبا کے ساتھ تعریفی نشست کا انعقاد کیا گیا اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ کے عہدیداران نے کونسل کے متعلق کالج اور اسکول کے طلبا کو اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ کے اعتراف و مقاصد ان کے سامنے بیان کیے گئے۔ گزشتہ روز میونسپل کمیٹی وندر کے ہال میں منعقد کیے گئے نشست کے دوران اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ کے مرکزی آرگنائزر سیاف رفیق بلوچ اور اوتھل زون کے صدر نزیر احمد سور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی لسبیلہ کے تعلیمی ادارے تباہی کی جانب دھکیلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، اعلیٰ تعلیمی حکام کے دعوے دہرے کے دہرے رہ گئے ہیں لسبیلہ کے طلبا کے اہم تعلیمی مسائل کے انبار لگ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ بریدہ کیمپ،ناکہ کھارڑی، خاصخیلی اسٹاپ، اچانک اسٹاپ،بزنجو بلوچ گوٹھ،ٹاور، سیریندہ،دبئی مسجد سمیت دیگر علاقوں کے طلبا 25 سے 30 کلو میٹر کا فاصلہ لوکل بسوں میں لٹکتے ہوئے اور بسوں کی چھتوں پر سوار ہو کر تعلیم حاصل کررہے ہیں یہاں افسوس کا مقام ہے کہ آج بھی لسبیلہ میں تعلیم کے حوالے سے تعلیمی اداروں میں فقدان دکھائی دے رہا ہے اساتذہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے لسبیلہ میں درجنوں پرائمری اسکول بند ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ پورے لسبیلہ میں سرکاری اسکولوں طلبا کے لیے بس کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی سہولت پیش رفت نہیں لائی جا رہی ہے جس سے بعض طلبا پرائمری یا مڈل پاس کرکے کھیتی باڑی میں لگ جاتے ہیں انہی صورتحال کے پیش نظر اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ کو لسبیلہ میں مکمل طور پر بحال کرکے اسکول کالج اور یونیورسٹی کے طلبا کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔ اس موقع پر گورنمنٹ ڈگری کالج وندر،گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول وندر کے طلبا سمیت دیگر طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی آخر میں اسٹوڈنٹس کونسل آف لسبیلہ کے عہدیداران کی جانب سے ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔


