مسنگ پرسز کیلئے احتجاج کرنے والوں پر پولیس کا لاٹھی چارج خواتین کو بالوں سے گھسیٹا گیا

کراچی (انتخاب نیوز) سندھ پولیس نے پیر کو مسنگ پرسنز کے لئے مظاہر ہ کرنے والے پر امن مظاہرین پر دھاوا بول دیا، پولیس اہلکاروں نے شدید لاٹھی چارج کیا ،مظاہرین مارتے پیٹتے اور خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے پولیس موبائلوں میں پھینک دیا گیا، واضح رہے کہ دو روز سے گمشاد بلوچ، دودا بلوچ اور نوربخش بلوچ کی بازیابی کیلئے سندھ اسمبلی کےسامنے پرامن مظاہرہ کیا جارہا تھا تاہم پیر کی شام اچانک پولیس کی بھاری نفری لیڈی پولیس کے ہمراہ پہنچ گئی، پولیس نے مظاہرین پر اچانک دھاوا بولتے ہوئے لاٹھی چارج شروع کردیا ،خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے پولیس موبائلوں میں پھینک دیا گیا۔ قبل ازیں بلوچ یکجہتی کونسل اور بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے کارکنوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا ، لاپتہ افراد کے لواحقین سے پولیس حکام کی جانب سے ملاقات سے انکار پر مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہائوس جانے کا اعلان کیا تو پولیس کی بھاری نفری نے ریڈ زون پر نفری بڑھا دی جبکہ پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہائو س کی جانب بڑھنے والی ریلی کو روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کردیں تاہم جب بلوچ خواتین اور مردوں پر مشتمل ریلی آرٹس کونسل فوارہ چوک پہنچی تو پولیس نے سرور شہید روڈ پر ریلی کو روک دیا جس پر مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دیدیا،دھرنےکے باعث کراچی پریس کلب جانے والی سڑک پر ٹریفک معطل ہوگئی ،پولیس نے گاڑیوں کو متبادل راستے سے گزارنا شروع کردیا، مظاہرین لاپتہ افراد کی بازیابی اور رہائی کےلئے نعرے بازی اور سندھ حکومت سے گمشاد بلوچ‘ دودا بلوچ اور نور بخش بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے رہے ، بانک آمنہ بلوچ نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کب تک اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے پر احتجا ج کریں گے، یہ شرمناک کھیل ختم کیاجائے، انہوں نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کرتے ہیں قانون نافذ کرنے والے ہمیں اس کی بھی اجازت نہیں دیتے۔بلوچ نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے دیں ان کو لاپتہ کرنے کے عمل کو ختم کریں ۔دریں اثناء سماجی کارکنوں ، ممتاز صحافیوں اور سیاسی رہنمائوں نے بہیمانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ قوم پرست رہنما ایاز لطیف بلوچ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ ہمار ا خون ہے اور ان پر تشدد قابل قبول نہیں ،مبشر زیدی، اسد طور اور ثناءاللہ بلوچ نے پولیس تشدد کی مذمت کی اور بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بہیمانہ کارروائی کے خلاف ایکشن لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں