محکمہ خوراک کسانوں سے گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنے میں ناکام
ڈیرہ مراد جمالی (انتخاب نیوز) محکمہ خوراک بلوچستان نصیرآباد میں کسانوں زمینداروں سے دس لاکھ گندم کی بوریاں خریدنے کے ہدف میں ناکام تین ماہ میں 2لاکھ 60ہزار بوریاں خرید سکا کسانوں چھوٹے زمینداروں سے کوڑیوں کے بھاؤ میں خریدی گئی گندم نصیرآباد جعفرآباد کی ملوں میں لاکھوں ٹن گندم کا ذخیرہ ہونے کے باوجود پروجیکٹ ڈائریکٹر اناج منڈی کی چھوٹی دکانوں پر چھاپے مارنے لگے۔ سیکریڑی خوراک سمیت دیگر آفیسروں نے ڈیرے ڈال دیئے۔ کھانے پینے، ڈیزل کی مد میں لاکھوں روپے کے شاہی خرچے، سیکرٹری خوراک عملے پر برس پڑے۔ نصیرآباد ڈویژن میں گندم کی کٹائی ماہ مارچ کے آخری ہفتے میں شروع ہوچکی تھی محکمہ خوراک کی عدم دلچسپی خریداری سینٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے نصیرآباد کی تحصیل چھتر تحصیل باباکوٹ تحصیل تمبو اور تحصیل ڈیرہ مراد جمالی کے کسانوں چھوٹے زمینداروں نے تنگ آکر بیوپاریوں کے ہاتھوں 1700 سو روپے من گندم ٖ فروخت کردی گئی اور مل مالکان نے بیوپاریوں سے لاکھوں ٹن گندم خرید کر ذخیرہ کردی ہے اب محکمہ خوراک کو دوہزار روپے من دینے کے بجائے ٹال مٹول کررہے ہیں جبکہ پروجیکٹ ڈائریکڑ کی ٹیم بااثر شخصیات کی ملوں میں چھاپے لگانے کے بجائے اناج منڈی کے چھوٹے دکانداروں پر چھاپے لگا کر سیکرٹری خوراک کی خوش آمدی حاصل کرنے کی ناکام کوشیش کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ محکمہ خوراک بلوچستان نے دس لاکھ گندم کی بوریاں خریدنے کے ہدف مقرر کیا تھا تین ماہ میں صرف 2 لاکھ 60 ہزار بوریاں خریداری کی اطلاع ملتے ہی سیکرٹری خوراک ایاز خان مندوخیل دیگر آفیسروں کے ہمراہ شدید گرمی میں نصیرآباد پہنچ کرڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ گندم خریداری مہم ٹیم پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ نصیرآباد کی جانب سے خریداری ٹیم کو سیکورٹی دینے ضلعی بندی کے باوجود گندم افغانستان اسملگلنگ کو روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ خریداری ٹیم نے رہائش کھانے پینے ڈیزل کی مد میں لاکھوں روپے کے شاہی خرچے کرنے کے باوجود ٹارگٹ حاصل بھی نہیں کرسکی ہے۔ سیکرٹری خوراک عملے پر ناقص کارکردگی پر برس پڑے اور تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا ہے۔


