این ایف سی کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافہ ہوگا، عبدالرحمن کھیتران
کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی وزیر خزانہ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ ایف بی آر کے محصولات میں بہتری آنے کی بدولت صوبے کو این ایف سی کی مد میں ملنے والے ٹیکس محصولات میں نئے مالی سال 2022-23میں 60ارب روپے کا اضافہ ہوگاالبتہ صوبے کی موجودہ پیداوار قدرتی وسائل میں کمی آنے کی وجہ سے رائلٹی کی مد میں ملنے والے پیسوں میں بتدریج کمی ہو رہی ہے جس کا تخمینہ اگلے سال میں 15ارب روپے لگا یا گیا ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کو بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہی سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ صوبے کو 1991سے پہلے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں بقایا 120ارب روپے جو کہ 10ارب روپے سالانہ کے حساب سے ملنے تھے، جو ن 2022میں ختم ہو جائیں گے جس کا صوبے کی سالانہ آمدنی پر براہ راست اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ2015کے بیشتر سوئی لیز کے معاہدے کے خاتمے کے بعد پیداوار جاری ہونے کے باوجود نیا معاہدہ تاحال طے نہیں ہو سکا جس سے رائلٹی اور ایکسٹنشن بونس کی مد میں سال 2022-23میں کم از کم 40ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگا یا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کے نظام محصولات کو پائید ار بنیادوں پر استوار کرنے اور ذرائع آمدن میں اضافے کے لیے موجودہ حکومت نے فنانس کے ذریعے ٹیکس کے قوانین میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی محصولات میں بہتری کے حوالے سے Balochistan Non Tax Revenue Mobilization Strategy, 2022 پر کام ہو رہا ہے، جس کا مسودہ کابینہ کی منظوری کے لیے بہت جلد پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز اور دیگر ٹیکسز کی وصولی کے لیے محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان،اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور One Linkسے معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں باقی محکموں کو بھی شامل کیا جارہا ہے جس سے نہ صرف ٹیکس دہند گان کو آسانی ہو گی بلکہ ٹیکس کی وصولی کے نظام میں شفافیت اور بہتری آئے گی۔


