نئی عمارتوں کی تعمیر پر پابندی نہ لگائی تو مستقبل میں کوئٹہ ایک ڈیڈ سٹی ہوگا، لشکری رئیسانی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کے مسائل میں کمی لانے کیلئے سٹی مینجمنٹ کی ضرورت ہے،شہر میں مزید نئے سرکاری اور غیرسرکاری عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کرکے یہ عمارتیں بلوچستان کے دیگر شہروں میں قائم کی جائیں تاکہ صوبے میں ترقی کی راہ کھلے، یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ ڈویلپمنٹ محاذ کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں پوسٹ بجٹ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پرکوئٹہ ڈویلپمنٹ محاذ کے کنوینئرعبدالمتین اخونذادہ،کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند،سابق سیکرٹری خزانہ محفوظ علی خان، ملک رشید کاکڑ، ڈاکٹر لعل خان کاکڑ، نذر خان بازئی، ڈاکٹر جہانگیر اچکزئی، داؤد کاکڑ، نذر بڑیچ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ کوئٹہ اس وقت بحرانوں سے دوچار ہے جن میں مزید اضافہ ہورہا ہے اگر ان بحرانوں کے خاتمے کی راہ ہموار نہ کی گئی تو وہ دن دور نہیں جب کوئٹہ ایک ڈیڈ سٹی ہوگا کوئٹہ شہر لاوارث ہے جن کا کوئی اپنا حلقہ نہیں ہوتا انہیں اس شہر سے نواز کر ایم پی اے اور ایم این اے اور میئر بنایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے مسائل میں کمی لانے کیلئے سٹی مینجمنٹ کی ضرورت ہے جس کے ذریعے شہر میں مزید نئی سرکاری اور غیرسرکاری عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کی جائے اور یہ عمارتیں بلوچستان کے دیگر شہروں میں قائم کی جائیں۔کوئٹہ میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے اور پانی کے سنگین بحرانوں پر قابو پانے کیلئے بلوچستان کے دیگر بڑے شہر وں میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے سیمینار کے شرکا سے استفسار کیا کہ وہ جس حکومت پر تنقید کررہے ہیں کیا وہ عوام کی منتخب کردہ ہے یا انہیں اقتدار سے نوازا گیا ہے، یہ لوگ منتخب نمائندئے نہیں بلکہ وقت گزارنے کیلئے آئے ہیں، مسلط شدہ لوگ اور جماعتیں عوام کو جوابدہ نہیں، بلوچستان اور کوئٹہ کے لوگوں کو درپیش مسائل اور بحرانوں کے ذمہ دار سلیکٹرز ہیں انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل میں اضافے کیلئے کچھ لوگوں کو اقتدار سے نوازا گیا ہے تاکہ بلوچستان کے لوگ اپنے مسائل میں الجھے رہیں اور مسلط لوگ ریکوڈک کا سودا کریں انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، یہاں آٹھ سو کلومیٹر ساحل ہے اگر یہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ یکجہتی، اتفاق کی ہے یہاں لوگ قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں یہاں لوگ منتشر ہیں جس کی وجہ سے صوبے کے مفادات کا سودا کیا جاتا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اجتماعی مسائل کے حل کیلئے یکجا ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی کوئٹہ کے ووٹرز اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے بلدیاتی اور عام انتخابات میں اپنے ووٹ کے ذریعے سابق نمائندوں کا احتساب اور آئندہ اپنے نمائندوں کا درست انتخاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے شہری برادری، رنگ و نسل مذہب اور طبقات سے بالا تر ہوکر اپنے شہر کے لئے سوچتے ہوئے اس کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں، اس موقع پر کوئٹہ ڈویلپمنٹ محاذ کے کنوینئر عبدالمتین اخونذادہ نے کہا کہ کوئٹہ کی اونر شپ اس کے شہریوں کو لینی ہوگی اس کے لئے باقاعدہ جمہوری مزاحمت کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں انہوں نے کوئٹہ کے مسائل کے حل کیلئے کردار ادا نہیں کیا کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند نے کہاکہ گزشتہ پی ایس ڈی پی 191ارب کا تھا جس میں سے صرف 92ارب روپے خرچ کئے گئے اور اس کو ریکارڈ قرار دیا گیا موجودہ 191ارب کی پی ایس ڈی پی میں امکانات کی بنیاد پر رقم رکھی گئی ہے جو چالیس ارب روپے پی پی ایل کی مد میں بلوچستان کو ادا کریگی ایسے میں جب وفاق بیرونی قرضوں کے لئے کوشاں ہے ایسے میں بلوچستان کو کہاں سے یہ رقم ادا کریگی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں نان ڈویلپمنٹ بجٹ میں اضافہ ہورہاہے جس سے صوبے کی ترقی منجمدہوکر رہ جائے گی انہوں نے کہاکہ بجٹ میں 1کروڑ 20لاکھ کی آبادی کیلئے صرف 2800آسامیاں مشتہر کی گئی ہیں کوئٹہ کوتیس سال کے دوران کوئی ماسٹرپلان نہیں دیا گیا تعجب ہے کہ جتنے بھی اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے تعمیر کئے گئے ہیں وہ تمام ماسٹر پلان کے بغیر تعمیر کئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ 23لاکھ کی آبادی والے شہر کو لاوارث شہر بنا گیا ہے یہاں کسی بھی شعبے پر کبھی توجہ نہیں دی گئی اندرون صوبہ صحت تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد یہاں سے کوئٹہ کا رخ کررہی ہے انہوں نے تجویز دی کہ کوئٹہ کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں صحت تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائے،سابق سیکرٹری خزانہ محفوظ علی خان نے کہا کہ بلوچستان کو وفاقی محصولات کی مد میں 100 ارب روپے کم ملے ہیں گیس کی مد میں 54 ملین روپے بھی صوبے کو نہیں ملے انہوں نے کہا کہ2016-17 کے بجٹ میں سولہ ارب روپے خسارہ تھا جو اب نئے مالی سال کے بجٹ میں 72 ارب روپے ظاہر کیا گیا ہے جس میں آئندہ مزید اضافہ ہوگا انہوں نے کہا کہ ہماری آمدن دس سے بارہ فیصد جبکہ اخراجات پندرہ فیصد ہیں بجٹ میں ریسورسز میں اضافہ کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ٹریفک و پانی کے مسائل اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے کوئی پلان نہیں، حیرت ہے کہ ٹینکر والے شہربھر میں پانی کی ترسیل کررہے ہیں مگر واسا ناکام ہے جس کے لئے بجٹ میں 1 ارب پچاس کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال کے دورا ن بلوچستان میں 140 ارب روپے کا ڈویلپمنٹ بجٹ لیپس ہوا انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ 2010سے 2017تک 17سیکرٹری خزانہ اور سولہ اے سی ایس تبدیل ہوئے ہیں۔


