بلوچستان ہائیکورٹ میں محکمہ زراعت اور لیبر میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کیس کی سماعت

کوئٹہ (انتخاب نیوز) ایک ہی اشتہار میں چوکیدار کی پوسٹ بھی موجود اور واچ مین کی بھی اس کے درمیان تفریق کیا ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان کے ریمارکس۔ کوٹہ سسٹم اس لئے بنایا گیا ہے کہ کسی ضلع کا حصہ دوسرے ضلع کو نہ دیا جائے، جسٹس روزی خان بڑیچ۔ تاحکم ثانی محکمہ زراعت اور محکمہ لیبر کے سیکرڑیز کو نئی بھرتیاں کرنے سے روکا جاتا ہے، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل بینچ کا حکم۔ نئی بھرتیوں کے حوالے سے دونوں محکموں کے جاری کردہ اشتہارات کو تاحکم ثانی کالعدم قرار دیا جاتا ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس روزی خان بڑیچ۔ محکمہ زراعت اور محکمہ لیبر بلوچستان نے مختلف اخبارات میں بڑی تعداد میں آسامیاں مشتہر کی ہے جس میں نئے قائم ہونے والے ڈویژنز کا حصہ شامل نہیں کیا گیا، درخواست گزار بایزید خان خروٹی۔ درخواست گزار نے کہا کہ ڈویژنز کے درمیان پوسٹوں میں تفریق کی گئی ہے، جس میں کچھ ڈویژنز کو زیادہ جبکہ کچھ کو کم حصہ دیا گیا ہے جو شہریوں کے درمیان تفریق اور ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ معاشرے کی نظرانداز کردہ اور ستائے ہوئے معذور لوگوں کے ساتھ شدید مذاق اور غیر سنجیدہ رویہ اپنایا گیا ہے۔ معذروں کو ان کے حق سے محروم رکھنے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت معذوروں کے کوٹے میں فیلڈ اسسٹنٹ، بیلدار، چوکیدار، ٹریکٹر ڈرائیور اور گاڑی ڈرائیوروں کی پوسٹیں رکھی گئی ہیں۔ اشتہار میں معذوروں سے لائسنس طلب کیا گیا ہے جو کہ مذاق کے مترادف ہے کیونکہ معذور افراد کا لائسنس نہیں بن سکتا، جبکہ یہی کچھ محکمہ لیبر ان مین پاور میں کیا گیا ہے۔ اشتہار میں حکومت بلوچستان کی بھرتیوں کے حوالے سے متعین کردہ پالیسی کے مطابق پوسٹوں کی تقسیم نہیں کی گئی ہے، سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی کو کوٹہ سسٹم اور پالیسی کی تقسیم کے ساتھ عدالت عالیہ میں طلب کیا جائے، سیکرٹری زراعت اور سیکرٹری لیبر کو نوٹس جاری کر کے تا حکم ثانی ان پوسٹوں پر بھرتیاں کرنے اور ٹیسٹ اور انٹرویو سے منع کیا جائے، نئے ڈویژنز کیلئے کوٹہ کو شامل کرنے اور معذوروں کے لیے کوٹے اور پوسٹوں کا ازسر نو تعین کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں