بلوچ طلباء کو راستے میں بس سے اتار کر تشدد کرکے لاپتہ کرنا افسوس ناک ہے، بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ
بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ مزمتی بیان میں کہا کہ کمسن بلوچ طلباء کو راستے میں بس سے اتار کر لاپتہ کرنے پورے بلوچ طلباء کو زہنی و نفسیاتی کوفت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ کل کوئٹہ سے تربت جاتے ہوئے راستے میں الرؤف بس سے مستونگ کے مقام پر سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے کمسن بلوچ طالب علم عبدالنبی بلوچ ولد الٰہی بخش، جہانزیب بلوچ ولد الٰہی بخش ولد ساکن آواران کولواہ ہور جبکہ رحمت اللّہ ولد حاجی رزاق بلوچ ساکن کیچ سلالہ بازار اور طلال نامی بلوچ اسٹوڈنٹس کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر انہیں لاپتہ کردیا، جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مزمت عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بلوچ طالب علم عید منانے جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا، ایسے ہھتکنڈوں سے نہ صرف لاپتہ بلوچ طلباء کے لواحقین زہنی کوفت میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تمام طلباء زہنی ونفسیاتی کوفت میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچ طلباء اپنے علم کے پیاس کو بجھانے کیلئے طویل مسافات طے کر کے کوئٹہ سمیت ملک دیگر شہروں کا رخ کرتے ہیں لیکن بدبختی سے حالیہ سال میں خاص کر طلباء کی جبری گمشدگیوں میں اضافے کے سبب پورے بلوچ طلباء زہنی کوفت میں مبتلا ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے حربوں کو بروئے کار لاکر ایک سوچے سمجھے پالیسی کے تحت بلوچ طلباء کو تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال بلوچستان سمیت کراچی، اسلام آباد اور دیگر مختلف شہروں کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباء کی پروفائیلنگ کے ساتھ ساتھ انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پڑھائی کے ماحول کو اس قدر گھمبیر صورتحال میں تبدیل کیا جا چکا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر والدین اپنے بچوں کو دیگر شہروں میں پڑھنے کیلئے ڈرتے ہین کہ کہیں ان کے لخت جگروں کو جبری گمشدگی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے خوف و حراس اور نفرت کا ماحول جنم لیتا ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ کمسن بلوچ طالب علم عبدالنبی بلوچ، جہانزیب بلوچ، رحمت اللّہ بلوچ، طلال بلوچ سمیت دیگر لاپتہ طلباء کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور ہم انسانی حقوق کے اداروں، حکومت وقت، اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانیت کی بنیاد پر جبری طور پر گمشدہ تمام بلوچ طلباء کو بازیاب کیا جائے، اور تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کی پروفائیلنگ کو روکا جائے تاکہ بلوچ طلباء پرامن اور پر سکون ماحول میں اپنی پڑھائی کو جاری کرسکیں۔


