تفتان بارڈر ٹرمینل پر تجارتی سرگرمیوں کو جلد بحال کیا جائے، ایوان صنعت و تجارت
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر فدا حسین دشتی نے بازارچہ تفتان بارڈر ٹرمینل پر تجارتی سرگرمیوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیو سی سی آئی ٹرمینل آپریشن ٹرسٹ کی جانب سے وقت مقررہ سے پہلے تعمیراتی و دیگر کام مکمل ہونے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ اداروں کی رضامندی کے باوجود این ایل سی کی جانب سے اس بابت روڑے اٹکانا قابل حیرت ہیں۔منگل کے روز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان میں مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر فدا حسین دشتی کا کہنا تھا کہ بازارچہ تفتان بارڈر ٹرمینل کی تعمیر اور فعالی تفتان اور صوبے کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد اور خاص کر ٹرانسپورٹرز کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے جس کا اظہار انہوں نے چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی،چیئرمین ایف بی آر محمد اشفاق احمد اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین ذیشان خانزادہ کی بازارچہ تفتان کے دورے کے موقع پر کیا جس پر انہوں نے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد اور مقامی آبادی کے اس دیرینہ مطالبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے احکامات صادر کئے اس سلسلے میں رواں سال مارچ کے مہینے میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان اور پاکستان کسٹمز کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 8مارچ کو اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا جس کے بعد کیو سی سی آئی ٹرمینل آپریشن ٹرسٹ نے گیٹس،وے برج و دیگر پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جسے تین ماہ میں مکمل کیا جانا تھا تاہم تعمیراتی کام کو مقررہ مدت سے قبل ہی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا جس کے بعد ہمیں امید ہو چلی تھی کہ اب بازارچہ تفتان بارڈر ٹرمینل پر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے سے نہ صرف ملک اور صوبے کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کو باعزت روزگار بھی ملے گی تاہم ایسا نہیں کیا گیا اب شنید میں آیا ہے کہ اس سلسلے میں این ایل سی حکام کی جانب سے روڑے اٹکائے جا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ این ایل سی ٹرمینل پر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صنعت و تجارت اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد مشکل سے دوچار ہیں بلکہ مال بردار گاڑیاں بھی ہفتوں تک کھڑی رہتی ہے جو مایوس کن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بازارچہ تفتان بارڈر ٹرمینل کو فیصل آباد اور سیالکوٹ ٹرمینلز کے طرز پر فعال کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں ہم کسی بھی صورت خاموش نہیں رہیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بازار چہ بارڈر ٹرمینل پر تجارتی سرگرمیاں شروع کی جائیں تاکہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کو سہولیات میسر آسکے اور مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آ سکے۔


