بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے 5 سالہ منصوبہ تشکیل دیا ہے، نصیب اللہ مری

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی وزیر برائے تعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہاہے کہ بلوچستان کے دوردراز علاقے تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے پسماندگی کاشکار ہیں، ہماری کوشش ہے کہ مختصر وسائل میں رہتے ہوئے بلوچستان کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرے، میرے حلقے میں ہائی اسکول ایک یا دو ہے فنڈز محدود ہیں، بلوچستان کے پاس اتنے وسائل نہیں ڈونر ایجنسیوں سے گزارش کررہے ہیں کہ آگے اندرون بلوچستان ان علاقوں میں کام کی ضرورت ہے جہاں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے جیسے ژوب شیرانی موسی خیل ڈیرہ بگٹی و دیگر اضلاع شامل ہیں۔حکومت بلوچستان کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کی جائیں گی تعلیم کی بہتری صرف محکمہ نہیں بلکہ والد، معاشرے کے افراد، سول سوسائٹی سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز اگر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا نہ کریں تو پسماندگی ہمارا مقدر ہوگی۔ بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر کا 5 سالہ پلان تشکیل دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی)کے زیر اہتمام کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار بعنوان ” بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا مستقبل بہتر کرنا” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی سیکرٹری ثانوی تعلیم عبدالرؤف بلوچ، ڈائریکٹرسکولز عبدالواحد شاکر، ڈپٹی انٹرنیشنل پروگرامز، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی زین العابدین، ہیڈ آف آفس آئی آر سی بلوچستان محمد شریف، سینئر پراجیکٹ منیجر برائے نوعمر لڑکیوں کو پڑھائیں اور تعلیم دیں کمیونٹی ہیلپ (TEACH) افتخار شفیق، سی ای او، انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اسٹڈیز اینڈ پریکٹسز قر العین بختیاری، سابق سیکرٹری منیر بادینی، صوبائی کوآرڈینیٹر، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی جیکا قیصر خان جمالی، عرفان احمد اعوان، سعید اللہ خان، چیف پلاننگ آفیسر پالیسی پلاننگ عمل درآمد یونٹ (P.P.I.U)عبدالخالق، ڈائریکٹر لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن، بلوچستان اشرف گچکی، سائرہ حبیب لہڑی، ڈائریکٹر سکولز واحد شاکر، منیجنگ ڈائریکٹر، بلوچستان ایجوکیشن فانڈیشن پروفیسر شیر زمان، صائمہ اجرم،گل رخ ودیگر بھی موجود تھے۔آئی آر سی بلوچستان کے سربراہ محمد شریف نے شرکا جو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آئی آر سی کی جانب سے ایک پروجیکٹ کے تحت نے پشین قلعہ عبداللہ چمن نوشکی چاغی اور خاران میں نان فارمل ایجوکیشن پر کام کیا جس میں حکومت بلوچستان کے متعلقہ حکام کو آن بورڈ کیا تھا پروجیکٹ میں 29 ہزار بچیوں کو تعلیم دلانے کا ٹارگٹ رکھا گیا جس میں 22 ہزار بچیوں کو بیسک لیٹریسی کے بعد اپنے طور پر انکم کراسکے، 7 ہزار بچوں کو مختلف پروجیکٹس کے تحت تعلیم دلایا جس کے بعد ان کیلئے امتحان رکھا گیا ان میں سے 4 ہزار بچیوں کو مین سٹریم کروادیا، یہ تمام کامیابیاں حکومت کے بغیر حاصل کئے گئے ہیں البتہ محکمہ تعلیم و نان فارمل ایجوکیشن کے حکام کی تعاون حاصل رہی اپنے وسائل میں رہتے ہوئے بلوچستان کے بچیوں کو تعلیم دلانے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مختلف پینلز کے شرکا نے لڑکیوں کی تعلیم، درپیش مسائل، رکاوٹیں اور دیگر امور پر روشنی ڈالی اور کہاکہ لڑکیوں کی تعلیم میں معاش، سماج، کلچر، فاصلے، جیسے مسائل درپیش ہیں اس لیے حکومت وقت کو سنجیدگی کے ساتھ تعلیم بلخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اس میں مقامی افراد کو شامل کیا جائے تو ہی ہم ان لڑکیوں کو تعلیم کے حصول سے آراستہ کر سکتے ہیں جو علم کے حصول میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، تعلیم صرف محکمہ تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ کمیونٹی سمیت سول سوسائٹی و دیگر کی بھی ذمہ داری ہے۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرتے ہوئے انہیں جدید تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم عبدالرؤف بلوچ نے کہا کہ آئی آر سی کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں تعلیم کا فروغ کسی ایک کا کام نہیں بلکہ سب کی ذمہ داری ہے، ایجوکیشن ایک پیچیدہ مسئلہ ہے آسان نہیں ہے کہ ہم معیاری تعلیم فراہم کریں، تمام اسٹیک ہولڈرز اگر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا نہ کریں تو پسماندگی ہماری مقدر ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں