جام کمال کے اثاثوں میں تین سو فیصد اضافہ ان کے دعوﺅں کی تردید ہے، فرح عظیم شاہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ نے سابقہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان کے اثاثوں میں تین سو فیصد اضافہ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومت میں حکمران امیر سے امیر تر ہوتے گئے لیکن بلوچستان پسماندہ اور عوام غریب ہی رہیں گے۔تین سال میں سابقہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی اثاثوں میں تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران بلوچستان کی ترقی کے تمام ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز منجمد کردئیے گئے تھے اس عرصے میں عوامی نوعیت کے کسی میگا پراجیکٹ پر کام نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور ترقی کے دعویداروں کے ایمانداری آج سب کے سامنے ہیں۔ترقیاتی اسکیموں کو روکنا،پسند نا پسند اور کرپشن نے بلوچستان کو ترقی کرنے سے روکے رکھا جس سے صوبے میں احساس محرومی میں اضافہ اور نوجوانوں میں مایوس پھیل گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے روحِ رواں تین سال میں کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورننس کا صرف دعوے کرتے رہے حقیقت میں اسی عرصے میں انہوں نے اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا لہذا بلوچستان کے عوام کو پسماندہ رکھنے والوں کی حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو پر الزامات لگانے والے آج عوام کو جواب دیں۔کیونکہ عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں موجودہ حکومت نے آٹھ ماہ کی مختصر مدت کے دوران بہت سی اہم کامیابیاں حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ،صاف وشفاف بلدیاتی انتخابات،بجٹ کی منظوری بغیر کوئی بوگس اسکیم شامل نہیں ہوا،انٹرپارٹی الیکشن کی خوش اسلوبی سے انعقاد اور بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے ذرائع پیدا کئے جارہے ہیں۔انہون نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو صاحب کی مدبرانہ قیادت میں بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی مثبت سمت میں گامزن ہیں۔اس سلسلے میں معاشی اور سماجی اہداف کے حصول اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے ہمہ وقت اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021-22ءکے دوران ترقیاتی منصوبوں کی مد میں صوبے کی تاریخ کے سب سے زیادہ 92ارب روپے کے فنڈز کا اجراءکیا تاکہ صوبے کے تما م اضلاع کو بلا تفریق ترقیاتی عمل میں شامل رکھا جائے۔اس ترقیاتی عمل میں حکومتی اور اپوزیشن کے تمام حلقوں کے لیے برابری اور پسماندگی کی بنیاد پر اسکیمات رکھے گئے ہیں۔


