بابو نوروزبلوچ سمیت شہداء بلوچستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،بی این پی

کوئٹہ:شہداء بلوچستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی شہداء کی قربانیوں سے قومی جہد مضبوط اور مستحکم ہوئی بی این پی کی جدوجہد میں شہداء کے اہم کردار رہا ہے شہید بابو نورو ز بلوچ‘ شہید گل زمین حبیب جالب بلوچ‘ شہید آغا نوروز‘ شہید ناصر بلوچ سمیت دیگر شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار تعزیتی ریفرنس سے سابق سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی‘ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ‘ مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ‘ خواتین سیکرٹری ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار‘ مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر غلام نبی مری‘ آغا خالد شاہ دلسوز‘ مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران جمال لانگو‘ میڈم منور سلطانہ‘ ملک محی الدین لہڑی‘نوابزادہ انورنگزیب جوگیزئی‘ علی احمد قمبرانی‘ رحمت اللہ پرکانی‘ حاجی ابراہیم پرکانی‘ بی ایس او کے اسرار بلوچ‘ لالا غفار‘ شہید حبیب جالب کے فرزند ہیبتان بلوچ‘ عیسیٰ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سی ای سی کے ممبران جاوید بلوچ‘ جمیلہ بلوچ‘ ثانیہ حسن کشانی‘ شمائلہ اسماعیل بلوچ‘ پروین لانگو‘ ٹکری شفقت لانگو‘ ملک ساسولی‘ چیئرمین واحد بلوچ‘ حاجی باسط لہڑی‘ ضلعی کابینہ کے طاہر شاہوانی ایڈووکیٹ‘ جاوید نسیم ہزارہ‘ اکرم بنگلزئی‘ عطاء اللہ کاکڑ‘ مصطفی سمالانی‘ پرنس رزاق بلوچ سمیت کارکنان بڑی تعداد میں پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں شریک تھے صدارت شہداء کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی تھے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض علی احمد قمبرانی نے سر انجام دیئے مقررین نے شہداء بلوچستان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے بلوچ قومی تحریک‘ انسانیت کی بقاء کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کیاآج بھی بی این پی مظلوم انسانوں کے حقوق کی ترجمان جماعت ہے جو تعصب اور نسل پرستی‘ تنگ نظری سے ہٹ کر جدوجہد پر یقین رکھتی ہے بلوچ معاشرے میں روشن خیالات و افکار کو پروان چڑھا رہے ہیں ہماری جدوجہد اصولوں پر مبنی اور ذاتی مفادات سے بالا تر ہے شہداء کی حقیقی‘ فکری اور نظریاتی فلسفے کو آگے بڑھا رہے ہیں قومی جمہوری سیاست کو پروان چڑھا رہے ہیں اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر جو اصولی موقف روز اول سے ہے اسے پر قائم ہیں نہ کبھی پیچھے ہٹے نہ کبھی پیچھے ہٹیں گے لاپتہ افراد سے متعلق حکومت سے واضح بات کی اور آج بھی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں اسی موقف پر قائم ہیں کہ لاپتہ افراد کو بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی شخص کو لاپتہ نہ کیا جائے اس متعلق وفاقی حکومت نے کمیٹی بنائی ہے وہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی شرائط میں شامل تھا کمیٹی جلد ہی لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق بل پارلیمان میں لائے گی تاکہ آئندہ کسی کو لاپتہ نہ کیا جا سکے ہم نے ہر فورم پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی کیونکہ یہ بلوچستان سمیت ملک بھر کا مسئلہ ہے چاہتے ہیں کہ ایسا قانون لائیں کہ کسی بھی شخص کولاپتہ نہ کیا جائے اگر کوئی کسی بھی جرم میں ملوث ہے تو عدالتیں قانون اور انصاف کرنے والے ادارے موجود ہیں جو فری ٹرائل کر کے ملزم کو سزا دے سکتی ہے اگر کوئی ملزم نہیں تو اسے رہا کر سکتی ہے مگر ماورائے آئین انسانی حقوق کی پامالی کو ناقابل برداشت عمل گردانتے ہیں بی این پی ہر فورم پر سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان کا معاملہ سیاسی اس مذاکرات سے حل کیا جائے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے بلوچستان کے جملہ مسائل کو حل کرنے کیلئے سازگار ماحول مہیا کیا جائے تاکہ مثبت تبدیلیاں رونما ہوں ہم مرکزی حکومت کا حصہ ہیں مگر ہمارے موقف میں لرزش نہیں دیکھی جا سکتی کہ ہم بلوچستان کے مسائل کے حل سے پیچھے ہٹے ہیں ایسا کبھی ممکن نہیں ہمارے سامنے اقتدار سے زیادہ عوام کی خدمت‘ لاپتہ افراد کی بازیابی اہمیت رکھتے ہیں موجودہ حکمران فوری طور پر معاملات کو بہتری کی جانب لے جانے کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اپنا سیاسی جمہوری کردار ادا کریں ملک کے ارباب و اختیار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچ مسئلہ کے حل کیلئے سیاسی راستہ اپنائیں بی این پی بلوچ اور بلوچستانیوں کی بڑی جماعت ہے جو اصول اور نظریات کے فلسفے پر کاربند ہے شہداء کی بڑی جماعت ہونے کے ناطے مختلف ادوار میں پارٹی رہنما?ں و کارکنوں نے کھٹن کٹھن و مشکلات حالات کا سامنا کیا آج بھی قومی جمہوری انداز میں غیر متزلزل طریقے سے اپنی جہد کو آگے بڑھا رہے ہیں اور ہم نے ثابت کیا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ ہمارے لئے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ارباب و اختیار کو چاہئے کہ وہ بلوچستان کی موجودہ بحران کا حل نکالیں اور مسئلہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے منسلک ہے اگر لاپتہ افراد بازیاب ہوتے ہیں تو یقینا ہزاروں لواحقین جس قرب اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں وہ ختم کیا جا سکتا ہے مقررین نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ پارلیمانی اراکین عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور کوشش ہے کہ بلوچستان میں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو‘ تعلیم‘ صحت سمیت دیگر سہولیات میسر ہوں بلوچستان کی تہذیب و تمدن اور بقاء کی جدوجہد میں اپنا سیاسی کردار ادا کرتے رہیں گے ترقی پسند‘ روشن خیال ضرور ہیں اور چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں جتنے اقوام آباد ہیں ان میں بھائی چارے کو فروغ دیا جائے مگر اس سے ہم غافل نہیں رہ سکتے کہ ہمیں اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کیا جائے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین خاندانوں کو بلوچستان کی حلقہ بندیوں اور میٹروپولیٹن کا حصہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں غیر بلوچ علاقوں کو میٹروپولیٹن اور بلوچ علاقوں کو ڈسٹرکٹ کونسل میں شامل کیا گیا ہے جو کسی صورت قبول نہیں قانون کی دھجیاں اڑانے کی بجائے ایسی پالیسیاں روا رکھی جائیں جس سے انصاف ملے آخر میں شہدائکو زبردست خراج عقیدت پیش اور ان کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں