کینسر ہسپتال کیلئے مشینری نہیں آسکی
کوئٹہ:حکومت بلوچستان کی جانب سے سال2006کے بجٹ میں صوبے کے پہلے کینسر ہسپتال کیلئے خطیر رقم مختص کی لیکن ہرسال کے اختتام پر کینسر ہسپتال کے فنڈز کسی دوسرے مد میں خرچ کیا جاتا سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے شیخ زید ہسپتال میں کینسر ہسپتال کا افتتاح کیا بلڈنگ مکمل ہوا لیکن اس میں کچھ خامیاں نکالی گئی جنہیں آج تک دور نہیں کی گئی اس طرح بلوچستان میں کینسر کے مریض اب بھی کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں علاج کراتے ہیں صوبے کے پہلے کینسر ہسپتال میں مشینری ابھی تک نہیں پہنچائی گئی کیونکہ اس میں مشینری رکھنے کی جگہ میں کچھ خامیاں حکومت بلوچستان کو بتائی گئی لیکن جام حکومت کے بعد جب موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستا ن میر عبدالقدوس بزنجو برسراقتدار آئے تو یہ معاملہ دوبارہ سرد خانے کا نظرہوگیا جس کی وجہ سے بلوچستان کینسر کے مریضوں کے مشکلات حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ مہنگائی کے تناسب سے اب دوسروں شہروں میں جانا اور وہاں علاج کرانا دشوار گزار ہے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ صوبے کے پہلے کینسر ہسپتال کو مکمل کرکے اس کو سٹارٹ کیا جائے تاکہ مریض ہسپتال سے مستفید ہوں عوامی حلقے نے بھی صوبے کے اس اہم منصوبے کی تاریخ پر تشویش کااظہار کیا ہے اس منصوبے کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے اور اس میں ہسپتال کے تمام ضروریات پوری کرکے اسے فعال کیا جائے تاکہ مریضوں کا علاج ممکن ہوسکے۔


