تربت،ہیپاٹائٹس کا عالمی دن، ٹیچنگ ہسپتال تربت میں گزشتہ روزایک روزہ آگاہی سیشن منعقد

تربت(نمائندہ انتخاب ) ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کی مناسبت سے ٹیچنگ ہسپتال تربت میں گزشتہ روزایک روزہ آگاہی سیشن منعقد کیاگیا، پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرونولوجی کی شراکت رہی ہے جس کے ممبر گیسٹروانٹیرولوجسٹ ڈاکٹروقار تاج اور مکران میڈیکل کالج تربت کے میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹرظفر بلوچ نے شرکاءکو ہیپاٹائٹس کی بیماری، علاج، ویکسینیشن کے حوالے سے آگاہی دی اور شرکاءکے سوالوں کے جواب دئیے، گیسٹروانٹیرولوجسٹ ڈاکٹروقار تاج نے بتایاکہ ہیپاٹائٹس ایک خاموش قاتل ہے اس بیماری سے متاثر 70سے80فیصد مریضوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ہیپاٹائٹس سے متاثرہیں کیونکہ عام طورپر اس کے کوئی ظاہری علامات نہیں ہوتے، ہیپاٹائٹس کے کئی اقسام ہیں مگر سب سے زیادہ خطرناک ہیپاٹائٹس Bاور Cہیں جودیرپا رہتے ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس Aاور Eجلدی ختم ہوجاتے ہیں ای کچھ دیر تک رہتی ہے مگر یہ اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی Bاور Cہوتے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 400ملین سے زائد ہیپاٹائٹس Bکے مریضوں اور150ملین سے زائد ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے مریضوں کی یہ تعداد روزانہ بنیادپر بڑھتی جارہی ہے، ہر10میں سے ایک شخص ہیپاٹائٹس کا شکارہوتاہے، دنیا میں ہر20سے30سیکنڈ کے اندر ایک مریض موت کے منہ میں چلا جاتاہے، ہیپاٹائٹس بی اور سی دائمی مرض ہوتے ہیں،ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش کا نام ہے، یہ مرض سب سے زیادہ حاملہ خاتون سے ان کے بچے میں منتقل ہوتی ہے جبکہ انتقال خون، ہیپاٹائٹس کے شکار مریض کے سرنج کے استعمال، ہیپاٹائٹس کے شکار مریض سے جنسی ملاپ،منشیات وغیرہ کے استعمال سے پھیلتاہے، ہیپاٹائٹس اے اکثر بغیر علاج کے خود ہی ختم ہو جاتا ہے، ہیپاٹائٹس بی یا سی کی وجہ سے جگر میں ہونے والی سوزش دائمی ہو سکتی ہے اور جگر کو طویل مدتی نقصان اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے، علاج کے بغیر، وائرل ہیپاٹائٹس جگر کے داغ کا باعث بن سکتا ہے اور جگر کے فنکشن کومتاثرکرتاہے،اس کی تشخیص یقینی بنانے کیلئے ہر شخص کو اسکریننگ کرانی پڑے گی ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ایک ٹیسٹ ہوتاہے اگر کسی شخص میں ہیپاٹائٹس بی نگیٹیو ہو تو اس کی ویکسین لگوائے جبکہ ہیپاٹائٹس سی کی ویکسین نہیں بلکہ اس کا علاج کرانا پڑے گا،3مہینہ کا آسان علاج ہے،اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر کی سوزش کا سبب بنتاہے جس سے جگر سکڑنا شروع ہوجاتاہے اورجگر کا کینسر بھی ہو سکتا ہے،انہوں نے کہاکہ کالا یرقان ایک مہلک اورجان لیوا بیماری ہے اس سے علاج اوربچا¶ ممکن ہے، جتنی جلدی اس مرض کی تشخیص ہوگی اتنافائدہ مند ثابت ہوگی جبکہ جتنی دیر لگے گی اتنی پیچیدگی اختیارکرسکتی ہے، اس بیماری سے بچا¶ کیلئے تمام لوگوں کی اسکریننگ ضروری ہے تاہم منشیات کے عادی افراد کی اسکریننگ بہت زیادہ ضروری ہے، مکران میڈیکل کالج تربت کے میڈیسن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹرظفر بلوچ نے کہاکہ ہیپاٹائٹس Aکا علاج سپورٹیو علاج ہوتاہے یہ خطرناک نہیں ہوتا یہ سپورٹیو علاج سے ختم ہوجاتاہے اس کے علامات میں بخار ہونا، بھوک میں کمی، متلی، الٹی، اسہال اور پٹھوں میں درد شامل ہیں، ہیپاٹائٹس Aکو ویکسینیشن کے ذریعے کنٹرول کیاجاسکتا ہے، پانی ابال کرپینے سے، سینیٹیشن سسٹم کو بہتربنانے سے اور کھانے سے پہلے اور ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد ہاتھوں کو صابن سے دھونے سے بھی ہیپاٹائٹس Aسے بچاجاسکتاہے، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز مکران ڈویژن ڈاکٹرمیریوسف خان نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹروقار تاج اور ڈاکٹرظفر بلوچ کو کامیاب معلوماتی آگہی سیشن کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے کیچ میں ہیپاٹائٹس پروگرام شروع کرانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کیچ میں ہیپاٹائٹس بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہاہے انہوں نے کہاکہ یہ ہماری کوخوش قسمتی ہے کہ یہاں پر2پی سی آر مشینیں موجودہیں جن سے اس وقت صرف کرونا ٹیسٹ کروائے جارہے ہیں تاہم یہ ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ کیلئے بھی کارآمدہیں، سیشن کے اختتام پر ایک واک کا اہتمام کیاگیا، سیشن میں آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹرواحد بخش بلوچ، ڈاکٹرمصباح منیر، ڈاکٹر شعیب کاشانی، ڈاکٹرگل محمدبلوچ، ڈاکٹر عبدالخالق، ڈاکٹرغلام مصطفی سمیت میڈیکل ورکرز،نرسنگ کالج کی طالبات اورمیڈیا نمائندے شریک تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں