اراضی واگزار کرانے کیلئے آپریشن میں خواتین پر تشدد ،5 ضلعی افسران معطل، انکوائری شروع، DSP اور SHO کی بھی چھٹی
کراچی ( انتخاب نیوز) سچل کے علاقے غازی گوٹھ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ سے خواتین کے زخمی ہونے کے واقعے کا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے معاملے کی تحقیقات کےلئے انکوائری کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے خواتین پر تشدد میں ملوث تمام افسران کو معطل کردیا۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے ڈپٹی کمشنر ایسٹ راجا طارق چانڈیو کی رپورٹ پر 5 افسران کو معطل کردیا، معطل افسران میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر 1 ایسٹ ہشام مظہر، اسسٹنٹ کمشنر اسکیم 33 ندیم قادر کھوکر، مختیار کار اسکیم 33 جلیل بروہی، تپیدار عاشق تنیو اور انچارج اینٹی انکروچمنٹ فورس سید محمد علی شامل ہیں، معطل افسران کی مزید تفصیلی انکوائری کمشنر کراچی محمد اقبال میمن کو سونپ دی گئی ہے جو 3 دن میں ذمہ دار افسران کا تعین کرکے رپورٹ چیف سیکریٹری سندھ کو جمع کرائیں گے۔دریں اثناء کراچی پولیس چیف نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سچل کو معطل کرکے ہیڈکوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے، پولیس چیف نے کہا کہ خواتین پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، واقعہ میں ملوث تمام افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔


