جیکب آباد، گندم کی اسمگلنگ جاری، ڈی ایف سی دفتر سے غائب
جیکب آباد (انتخاب نیوز) جیکب آباد کا محکمہ خوراک گندم کی خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام، گندم کی اسمگلنگ بھی نہ روکی جا سکی، نگرانی کے لئے محکمہ خوراک کی چوکیاں بھی غیر فعال، ڈی ایف سی دفتر سے غائب، ہدف حاصل نہ ہونے کا ڈی ایف سی نے اعتراف کر لیاتفصیلات کے مطابق جیکب آباد کا محکمہ خوراک گندم کی خریداری کا ہدف حاصل کرنے میں تاحال ناکام ہے ضلع جیکب آباد کو محکمے کی جانب سے گندم کی خریداری کے لئے 5لاکھ 82ہزار بوریوں کا ہدف دیا گیا تھا لیکن معلوم ہوا ہے کہ محکمہ خوراک ابھی تک صرف 2لاکھ 85ہزار کی گندم کی خریداری کر سکا ہے، گندم کی خریداری کے ہدف میں ناکامی کا سبب افسران کی لا پرواہی کے ساتھ ساتھ گندم کی اسمگلنگ بھی ہے گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لئے بنائی گئی نگران کمیٹیاں بھی غیر فعال ہیں جیکب آباد کے بائی پاس سمیت سرحدی علاقوں پر قائم چوکیوں پر محکمہ خوراک کا عملہ ڈیوٹی کرنے کے بجائے غائب رہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گندم کی اسمگلنگ محکمہ خوراک کے عملے کی ملی بھگت سے کی جا رہی ہے فی ٹرک بھاری رشوت لی جاتی ہے گندم کی اسمگلنگ کی وجہ سے صوبے میں آٹے کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے آٹا مہنگا ہو گیا ہے اورجیکب آباد میں سو روپے فی کلو آٹا فروخت کیا جارہا ہے، اس سلسلے میں ڈی ایف سی جیکب آباد حاکم مہر نے رابطے پر محکمے کی جانب سے گندم کی خریداری کا ہدف حاصل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ عید کے بعد سے کوئی خریداری نہیں ہوئی ہے مارکیٹ ریٹ اور سرکاری ریٹ میں فرق کی وجہ سے خریداری متاثر ہوئی ہے۔


