پنجگور میں حکومتی عدم توجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل، کاروبار تباہی سے دوچار
پنجگور (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ضلع پنجگور میں اداروں کی عدم توجہ و غلط پالیسیوں کی وجہ سے کاروبار تباہی کی طرف گامزن ہوئی ہے دن بدن کاروباری لوگوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے مختلف کاروبار سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ پنجگور بلوچستان کا کاروباری زون تھا لیکن چند سال ہوئے ہیں یہاں کاروبار تباہ ہوچکی ہے ان کاروباری لوگوں میں موبائل فون شاپ دھاگہ سنٹر میڈیکل اسٹور کاسمیٹکس شاپ جنرل اسٹور ڈیکوریشن سنٹر گفٹ سنٹر نٹ کیفے کلاتھ ہاس ودیگر بے شمار کاروباری شخصیت کا کہنا ہے آج کل کے دور میں کاروبار آن لائن سسٹم پر چل رہا ہے دن بدن جدید ساز و سامان مارکیٹ میں آرہے ہیں گاہکوں کی فرمائشوں کو وقتی صورت پورا کرنے کیلئے مختلف کمپنیوں و ڈیلر سے آن لائن فرمائش کرتے ہیں اسی حوالے سے ہم نے لاکھوں روپے کے مختلف سامان اپنے دکانوں پر لگائے کہ کاروبار کریں گے لیکن آن لائن کاروبار کرنے کیلئے انٹرنیٹ کی ضرورت ہے جبکہ پنجگور میں انٹرنیٹ نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہر شش ماہ وسال اسے اداروں کی جانب سے بند کردیا جاتا ہے نہ بازار کے دکانوں میں پی ٹی سی ایل لائن کی سہولت ادارے فراہم کرتا ہے نہ کنکشن ملتا ہے پنجگور میں اس وقت سو دو سو موبائل کی دکانیں ہیں اور اس جدید دور میں ہر موبائل کی قیمت پچاس ہزار سے لاکھ روپے سے کم و بیش ہے ہم نے اپنے کاروبار و دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے لاکھوں روپے کے موبائل کراچی و دیگر موبائل ڈیلر سے ادھار میں لے کر اس امید پر کہ انہیں بیچ کر کاروبار کریں گے لیکن جب سے پنجگور میں انٹرنیٹ بند ہے تمام موبائلز دکان میں کارٹون کی طرح پڑے ہیں گاہک کہتے ہیں بڑے بڑے موبائل فون بغیر انٹرنیٹ کے کسی کام کے نہیں ہے لاکھوں روپے کے موبائل کے ادھار نے ہر دکاندار کو ذہنی مریض بنادیا ہے اور مالک کے فون ہر گھنٹے بعد آتے ہیں سمجھ نہیں آتا ہے کہ کیا کریں انہوں نے کہا ہے انٹرنیٹ کی بندیش کی وجہ سے اپنی نقصان و کاروبار تباہ ہونے کی ساری مجبوریوں کے حوالے اداروں کو خط لکھے اس سے متاثر اسٹوڈنٹس سیاسی جماعتوں نے بھی احتجاج کیا صحافیوں و دیگر ریڈرز نے اداروں سے مطالبے کیے لیکن سننے والا کوئی نہیں ہے اداروں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سینکٹروں دکانیں کام ٹھپ ہونے کی صورت میں اپنی دکانیں بند کرکے اپنا کاروبار پنجگور سے منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں سینکٹروں دکاندار پریشانی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں انٹرنیٹ کی بندیش نے ہر کاروبارب کو متاثر کیا ہوا ہے افسوس کہ ملک کی ترقی کاروبار سے ہوتی ہے لیکن ادارے بلوچستان میں کاروبار کو نقصان دے رہے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان میں انار کی پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت وقت کے پاس کسی قسم کا کوئی کاروبار کرنے کا ذرائع بھی نہیں ہے اور نہ ہی سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی ہے کاروباری لوگوں کو ریلیف دینے کی باتیں دور ہر سال بلوچستان و وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن عملی صورت میں مختلف محکموں میں آسامیاں مشتہر جیسے عمل کئے جاتے ہیں وہ کینسل در کینسل کے صورتحال میں گم ہوجاتے ہیں ہرسال ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان مختلف درسگاہوں سے تعلیم سے فارغ ہو کر ملازمت و کاروبار کرنے کی تھگ دو میں رہتے ہیں لیکن اداروں کی وہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو کر مایوس ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور اس وقت ملک بھر سے زیادہ بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے پنجگور کا ایک سہارا ایران بارڈر پر تیل کا کاروبار تھا گزشتہ تین چار سالوں سے مختلف حیلے بہانوں سے کاروبار کو تنگ کرتے کرتے آج پچاسی فیصد کم و بیش کاروبار کو بند کردیا گیا بارڈر و انٹرنیٹ ڈیٹا بندیش کی وجہ سے پنجگور جو بلوچستان کا جنکشن روٹ و کاروباری زون سمجھا جاتا تھا جہاں دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری لوگ کاروبار کررہے تھے اور چند سال پہلے بازار میں شدید ٹریفک کی وجہ سے چلنا پھرنا محال تھا لیکن آج حکمرانوں کی بارڈر موبائل فون ڈیٹا بندیش کی وجہ سے پنجگور بازار میں ہڑتال جیسا سماں رہتا ہے انہوں نے بارڈر بندیش کے حوالے سے حکومت وقت کو اقدام اٹھانے کا اپیل و انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کاروبار کرنے کیلئے اداروں سے اپیل کی ہیکہ وہ موجودہ انٹرنیٹ بندیش پالیسیوں کو ترک کرکے ہمیں جینے کا حق دیا جائے۔


