عمران خان 4ستمبر کو کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے،قاسم خان سوری

کوئٹہ: پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر و سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان 4ستمبر کو کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے امپورٹڈ حکومت کے وزیراعظم نے قلعہ سیف اللہ اور جھل مگسی جاکر ٹوپی ڈرامہ کرنے کے علاوہ سیلاب زدگان کی کوئی امداد نہیں کی عمر ا ن خان کی ہدایت پر خیبر پختونخواء اور پنجاب حکومتوں نے پی ڈی ایم اے بلوچستان کو امدادی سامان مہیا کیا ہے، پی ٹی آئی صوبے میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے بی اے پی نے وفاق میں ساتھ چھوڑا جس کی وجہ سے ہماری حکومت گری۔ یہ بات انہوں نے منگل کی شب کوئٹہ میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمنیر بلوچ، صوبائی ترجمان نذیر اچکزئی، ضلعی صدر عبدالباری بڑیچ، جنرل سیکرٹری و صوبائی وزیر مبین خلجی، نوابزادہ شریف جوگیزئی، داؤد خان،عالم کاکڑ، داؤد شاہ کاکڑ، نصیب اللہ بیٹنی، سردار زادہ ادریس تاج،اکرم ترین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بلوچستان میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے چیئر مین عمر ان خان 4ستمبر بروز اتوار کو کوئٹہ میں بڑے عوامی جلسے سے خطاب کریں گے جس میں وہ بلوچستان کے نوجوانوں کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے اور امپورٹڈ حکومت کے خاتمے کا راستہ بتائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں بلوچستان کے لئے 600ارب روپے کا ساؤتھ بلوچستان پیکج، کوئٹہ ژوب شاہراہ کو سی پیک کے تحت دو رویہ کرنے، چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کرنے، نسٹ یونیورسٹی، اسپتال، عالمو چوک، گاہی خان چوک پر پلوں کی تعمیر، ریکوڈ ک کے جرمانے کے خاتمے، گوادر میں ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر کئی منصوبے فراہم کئے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور وہ یہ بات بلوچستان آکر بھی ثابت کریں گے۔قاسم سوری نے کہا کہ بلوچستان کو محکمو م رکھا گیا ہے بلوچستان کی پسماندگی کی ذمہ دار قوم پرست اور مذہب پرست جماعتیں آج پی ڈی ایم اور امپورٹڈ حکومت کا حصہ ہیں سیلاب میں وہ تمام ڈیم ٹوٹے ہیں جو انہی جماعتوں کے دور حکومت میں بنے اور ان میں کرپشن کی گئی۔ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قلعہ سیف اللہ اورجھل مگسی کے دورے کے دوران ٹوپی ڈرامے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جبکہ عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختونخواء اور پنجاب کی حکومت نے پی ڈی ایم اے کو سامان مہیا کیا ہے امپورٹڈ حکومت نے پیٹرول،گیس،بجلی سمیت ہر چیز مہنگی کردی ہے حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے وزراء عوام کے مسائل حل اور ان پر بات کرنے کے بجائے صبح شام عمران خان کے خلاف پریس کانفرنسیں کرنے میں مصروف ہیں۔ایک سوال کے جواب میں قاسم سوری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صوبے میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے ہمارے وزراء عوام کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں وفاق میں بلوچستان عوامی پارٹی نے ہمارا ساتھ چھوڑا تو ہماری حکومت گری ان میں بھی تقسیم اور کھینچا تانی جاری تھی تاہم ہم نے بلوچستان کے وسیع ترمفاد میں بی اے پی کی جانب سے جو فیصلہ کیا گیا بلوچستان میں حکومت سازی کے دوران اسکا ساتھ دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں