پنجگور میں ایرانی بارڈر کی بندش مقامی لوگوں سے روزگار چھیننا ہے، حق دو تحریک

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پنجگور بارڈر بچاؤ تحریک سیاسی جماعتوں حق دو تحریک کے زیر اہتمام گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے بلاجواز بارڈر کی بندش اور عوام کی روزگار اور کاروبار پر قدغن کیخلاف شدید احتجاج و مظاہرہ مظاہرین کا بسم اللہ چوک سے ریلی کی شکل میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا۔ مظاہرے میں ضلع بھر سے زمباد دوہزار اور پیک گاڑی والوں سمیت آٹوز گیرج اور عوام کی ہزاروں کی تعداد میں شرکت فوری طور پر بارڈر کھولنے، غریب عوام کے روزگار بحال کرنے، کرپٹ بارڈر کمیٹی کو ختم کرنے، ٹوکن اور اسٹیکر کے نام پر بااثر اور من پسند لوگوں کو نوازنے کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ بارڈر بچاؤ تحریک اور حق دو تحریک نے ڈی سی آفس کے سامنے بارڈر کھولنے تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ۔ پنجگور بارڈر بچاؤ تحریک اور حق دو تحریک کے زیر اہتمام پنجگور جیرک بارڈر کی گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے بندش ہزاروں غریب عوام کی روزگار پر بلاجواز قدغن کرپٹ بارڈر کمیٹی کو ختم کرنے ٹوکن اور اسٹیکر کے نام پر بااثر اور من پسند لوگوں کو نوازنے کے خلاف تاریخی احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی ریلی بسم اللہ چوک سے ہوتی ہوئی ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے بارڈر کھولنے تک کیمپ لگا کر دھرنا دیا۔ احتجاجی مظاہرے کو مختلف سیاسی جماعتوں نیشنل پارٹی مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سول سوسائٹی پنجگور کی حمایت حاصل تھی۔ ریلی میں بارڈر بچاؤ تحریک کے سعود شمیزئی، نجیب بلوچ، حق دو تحریک کے ملا فرہاد، نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی صالح محمد بلوچ، پھلین بلوچ، حاجی ایوب دھواری، مسم لیگ ن کے ڈویژنل صدر و آل پارٹیز کے وائس چیئرمین اشرف ساگر پیپلز پارٹی کے ڈویژنل جنرل سیکرٹری حق دو تحریک کے آرگنائزر آغا حسین بلوچ ممتاز قبائلی وسیاسی رہنما محمد اکرم زعمرانی لعل دوست بلوچ نے کیا۔ احتجاجی مظاہرے اور دھرنے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی صالح محمد بلوچ مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر اخرف ساگر، حق دو تحریک کے ڈپٹی آرگنائزر ملا فرہاد، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما پھلین بلوچ، پیپلز پارٹی مکران ڈویژن کے جنرل سیکرٹری آغا شاہ حسین بلوچ، سول سوسائٹی پنجگور کے رہنما عبدالصمد صادق، بارڈر بچاؤ تحریک کے رہنما سعود شنمبیزئی نجیب بلوچ، ممتاز قبائلی سیاسی رہنما اکرن زعمرانی، نیو کمپلیکس کمیٹی کے رہنما لعل دوست بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی بارڈر سرحدی علاقوں خصوصاً پنجگور سمیت پورے بلوچستان کا روزگار، کاروبار، زمینداری اور بچوں کو تعلیم کے خرچے برداشت کرنے کا واحد ذریعے اور سہارا ہے مگر ایک سازش کے تحت گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جیرک بارڈر کو بلا جواز بند کرکے یہاں بسنے والوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا۔ پنجگور ایک سرحدی علاقے اور یہاں کے لوگوں کا روزگار اور گزر بسر کا واحد ذریعہ ایرانی بارڈر ہے جہاں سے عوام تیل اور اشیاء خورونوش ایرانی بارڈر سے لاکر گزر بسر کرتے ہیں لیکن افسوس ایک منصوبے کے تحت پنجگور کے عوام سے انکا نوالہ چھین کر زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جارہا ہے، کھبی ٹوکن کھبی ایرانی حکام کی اور کھبی پاکستانی حکام کی طرف سے بندش کا بہانہ بنا کر کاروبار کو بند کرنے کی سازش تلاش کی جارہی جو کسی صورت پنجگور کے عوام کو قبول نہیں، حکمران پنجگور کے عوام کو زندہ درگور کریں یا عوام کو ایرانی بارڈر سے آزادانہ کاروبار کے مواقع دستیاب کریں۔ اب پنجگور کے عوام تھک چکے ہیں، ایرانی بارڈر کی بندش کی سازش کسی صورت برداشت نہیں کرینگے۔ آخر میں مقررین نے کہا کہ بارڈر کی بندش موجودہ بارڈر کمیٹی، ٹوکن اور اسٹیکر کی من پسند لوگوں میں تقسیم ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔ انہوں نے فوری طور پروم جیرک بارڈر کھولنے، عوام کو روزگار اور کاروبار بحال کرنے، بااثر اور من پسند بارڈر کمیٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں