ظہور بلیدی طالبعلموں کو آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت جاری اسکالر شپس دلوانے میں کردار ادا کریں، متاثرہ طلبہ
کوئٹہ (ویب ڈیسک) ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت جاری اسکالر شپس کے متاثرہ امیدواروں نے پیپلز پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی ظہور بلیدی کے بیان پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ بلوچستان کے طلبہ کو آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت جاری اسکالر شپس میں نظر انداز کیا گیا، اقربا پروری کے تحت غیر مقامی اور منظور نظر طلبہ میں اسکالر شپس تقسیم کی گئیں، ظہور بلیدی نے اپنے ایک بیان میں بلوچستان کے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی طالبعلم انفرادی طور پر اسکالر شپس سے محروم رہ گیا ہے تو وہ حکومت بلوچستان کے متعلقہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کرکے اپنا مسئلہ حل کروائے جبکہ متعلقہ محکمے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر دارا شکو جو اس سارے عمل کے ذمہ دار ہیں جن کی صوابدید پر بلوچستان کے طلبہ کی اکثریت کو آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت اسکالر شپس سے محروم رکھا گیا تو ان متاثرہ طالبعلموں کی داد رسی کون کرے گا۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کے حکام بالا کو بارہا نشاندہی کرنے کے باوجود نہ ہی اسکالر شپس سے محروم طلبہ کی کوئی شنوائی ہوئی نہ ہی مذکورہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔ طلبہ نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزراءصدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کیلئے جاری اسکالر شپس کے حوالے سے اپنی کوششیں کرتے ہوئے بلوچستان کے طلبہ کو آغاز حقوق بلوچستان کے تحت جاری اسکالر شپس دلوائیں اور مذکورہ بدعنوان پروجیکٹ ڈائریکٹر کیخلاف قانونی کارروائی کریں تاکہ پسماندہ بلوچستان کے مستحق طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اور صوبے کے مستقبل کیلئے کچھ کرسکیں۔


