تربت بارڈر کی بندش کے خلاف متاثرین کی احتجاجی ریلی، کیچ بارڈر کھولنے کا مطالبہ

تربت (نمائندہ انتخاب) تربت بارڈر کی بندش کے خلاف متاثرین کی جانب سے شہر میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی غلام نبی چوک سے شروع ہو کر شہر کی مختلف شاہراہوں سے گزرتی ہوئی شہید فدا چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں ریلی ایک بڑے احتجاجی اجتماع کی شکل اختیار کر گئی۔احتجاجی ریلی کی قیادت بارڈر تحریک کے رہنما سردار ولی یلان زئی نے کی، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد، تاجر، مزدور اور متاثرہ خاندانوں کے افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ یہ بارڈر کی بندش نہیں بلکہ ہماری روزگار کی قدغن ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش کے باعث علاقے کے ہزاروں خاندان نانِ شبینہ کے محتاج ہو چکے ہیں اور لوگوں کے پاس روزگار کا کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں رہا۔ احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سردار ولی یلان زئی اور دیگر مقررین نے کہا کہ عوام کو مسلسل یہ کہہ کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ بارڈر آج یا کل کھول دیا جائے گا، مگر یہ تمام اعلانات محض لولی پاپ ثابت ہوئے ہیں۔مقررین نے کہا کہ سوراپ مند بارڈر سے گاڑیاں تو گئی ہیں لیکن تیل لانے کے لیے ایک بھی گاڑی واپس نہیں آئی، جبکہ ایرانی گاڑیوں کو یہاں آنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور کیچ کا بارڈر فوری طور پر کھولا جائے۔احتجاجی رہنماو¿ں نے مطالبہ کیا کہ بارڈر کو سابقہ طرز پر عبدوئی کراسنگ پوائنٹ کے مقام پر بحال کیا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو کاروبار اور روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔ مظاہرین نے بارڈر بندش کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اور عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔مقررین نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں