صوبے میں امن وامان کی صورتحا ل ، جماعت اسلامی کا ”بلوچستان کوامن دو”مہم شروع کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ (آن لائن) امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کوامن،حقوق نوجوانوں کوروزگار،تاجروں کوتجارت،ماوں کاجبری غائب کیے گیے جگرگوشے چاہیے۔بلوچستان اس وقت بدامنی،بے روزگاری اور حکومت وسیکورٹی فورسزکی نااہلی کے سنگین بحرانوں سے دوچار صوبے کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی بے بسی اور غفلت نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں بلوچستان کے حالات کے حوالے سے سیاسی کمیٹی وذمہ داران اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں صوبائی نائب امیر وصدرسیاسی کمیٹی زاہداختربلوچ،نائب امیر صوبہ مولانا عبدالکبیرشاکر،ظہور احمد کاکڑ،سلطان محمد محنتی،عبدالولی خان شاکر، عبدالنعیم رند،روح اللہ سالار نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان میں حالیہ بدامنی،حکومت وسیکورٹی اداروں کی نااہلی وکامی کاجائزہ وجماعت اسلامی کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج ہی سے مہم ”بلوچستان کوامن دو”شروع کیاجائے اس حوالے سے صوبہ بھر میں تقاریب جرگہ پریس کانفرنسز،سیمینارز،افطارپارٹیاں سمیت دیگرسرگرمیاں منعقدکیے جائیں گے سوشل وپرنٹ میڈیاکوفعال کرنے کیساتھ ”بلوچستان کوامن دو ”مہم کی ہرسطح پرتشہیرکی جائیگی۔بلوچستان کے امن کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتی رہنماں اسلام آباد کے اعلی حکام سے بھی ملاقات کیے جائیں گے۔جماعت اسلامی کے ان رہنماوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کوامن سے محرومی، بدامنی کی طرف دکھیلنازیادتی اورعوام سے دشمنی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سب سے پہلے امن،حقوق اوروسائل پردسترس چاہیے۔جب تک صوبے میں پائیدار امن قائم اورلوگوں کوتجارت،نوجوانوں کو روزگارنہیں دیاجائیگا، ترقی کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہوسکتا۔ آئے روز کے بدامنی کے واقعات،شاہراہوں انٹرنیٹ کی بندش نے طلبا ،تاجروں وعام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ٹرانسپورٹرز،مزدور، طلبہ،شہری اور سرکاری ملازمین سب خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمح فکریہ ہے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، لیکن بدقسمتی سے آج وہ بے روزگاری، مایوسی اور محرومی کا شکار ہیں۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے نوجوانوں کے ہاتھوں سے روزگار کے مواقع چھین لیے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم نہ کیا گیا تو مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کرے،لاپتہ افراد کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے، اور صوبے کے وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کو دے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار اسکیمیں، فنی تربیتی مراکز اور شفاف بھرتیوں کا نظام قائم کیا جائے۔جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے۔ ہم ہر فورم پر عوام کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ہمارا مشن اقتدار نہیں بلکہ عوام کے مسائل کا حل ہے۔ ہم پرامن، خوشحال اور باوقار بلوچستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔آخر میں انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ عوام کے درمیان جائیں، ان کے مسائل سنیں اور جماعت اسلامی کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں تاکہ ایک مثبت اور پرامن تبدیلی کی راہ ہموار کی۔


