مستونگ واقعہ بدترین ریاستی جارحیت ہے، سرکاری اہلکاروں کو کٹہرے میں لایا جائے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں گزشتہ شب پڑنگ آباد مستونگ میں ڈگری کالج مستونگ کے سابق پرنسپل ریٹائرڈ پروفیسر ادیب و شاعر صالح محمد شاد کے گھر پر فورسز نے چھاپے کے دوران پروفیسر صالح محمد شاد کے دو بھتیجوں کو موقع پر قتل جبکہ پروفیسر صالح محمد شاد ان کے بیٹے بار کونسل مستونگ کے نائب صدر ایڈوکیٹ چیف عطا اللہ بلوچ، ضعیف العمر گل محمد شاہوانی، نجیب اللہ ایڈووکیٹ، سیف اللہ، مجیب الرحمن اور براہمدغ کو شدید زخمی کردیا۔ صلاح الدین اور سلمان کی لاشوں اور چھاپے کے دوران شدید زخمی افراد کو فورسز اپنے ساتھلے گئے۔ نیشنل پارٹی مستونگ واقعے کو بدترین ریاستی ظلم قرار دے کر چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کے سامنے جس بے دردی سے نوجوانوں کو قتل اور زخمی کرنا اور ان کی لاشوں اور زخمیوں کو اپنے ساتھ لے جانے کو کھلی ریاستی جارحیت، ماورائے قانون و آئین قرار دیتا ہے۔ مقامی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائی سے لاعلمی افسوسناک ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک جانب پورے ملک و بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں، لوگ آسمان تلے بھوک و پیاس میں بلک رہے ہیں، لوگوں کو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں، دوسری جانب لاپتہ افراد کے لواحقین بلوچستان سیکرٹریٹ پر دھرنا دیئے ہوئے ہیں، ایسے حالات میں لاپتہ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے بجائے پرامن لوگوں کے گھروں میں رات کی تاریکی میں گھس کر نوجوانوں اور لاشوں کو لاپتہ کرنا کونسی دانشمندی ہے۔ پارٹی بیان میں ستر سالہ ضعیف العمر فرد کو دو وکلا سمیت شدید زخمی حالت میں لاپتہ کرنا اور لاشوں کو ساتھ لے جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیشنل پارٹی نے مطالبہ کیا کہ مستونگ واقعے میں لاپتہ افراد کو فوراً بازیاب کیا جائے اور جاں بحق نوجوانوں کی میتوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے، واقعے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے، ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، قتل و غارت گری کا سلسلہ بند کر کے تمام لاپتہ افراد کو رہا اور بلوچستان میں طاقت کے استعمال بند کیا جائے۔


