غلامانہ پالیسیوں نے ملک کے امن وترقی کو داﺅ پر لگا دیا، جے یو آئی نظریاتی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) پی آئی پی ایس PIPS کے زیراہتمام سرینا ہوٹل اسلام آباد میں افغان امن اور مفاہمت، پاکستان کے مفادات اور پالیسی کے اختیارات کانفرنس سے جمعیت علماءاسلام نظریاتی پاکستان کے سینئر نائب امیر مولانا عبدالقادر لونی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کے درمیان تعاون اور مضبوط سفارتی تعلقات استوار کرنے سے انسانی بحران اور معاشی بدحالی سے نمٹا جاسکتے ہیں اور ہمسایہ ممالک کے مابین بہتر برادرانہ تعلقات سے اقتصادی منصوبوں کی تکمیل ہوگی لیکن بدقسمتی سے سامراجی قوتیں مسلم ممالک کو سیاسی، معاشی اور دفاعی لحاظ سے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور بہتر پالیسیاں تشکیل دینے سے ملک کو بحران اور مسائل سے نجات نہیں دلائی جاسکتی ہے، غلامانہ پالیسیوں نے ملک کے امن وترقی کو داﺅ پر لگا دیا، بیس سال حکمران نے پرائی جنگ میں 80 ہزار لوگوں کی جانیں 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بھی پاکستان کی خودمختاری کو روندھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج بھی غلامانہ پالیسیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ غلامانہ پالیسیوں نے ملک کو معاشی، سیاسی لحاظ سے پیچھے کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اور قوم ایک کرب اور بے چینی کی حالات سے گزر رہی ہے۔ امریکہ خطے کی امن تباہ اور سا لمیت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بیس سال کی غاصبانہ قبضے اور فوجی طاقت ، سفاکیت اور ننگی جارجیت سے افغانستان کوراکھ کردیا اور خطے کا امن تباہ کردیا، بیس سال خطے میں جاری بے امنی، خون کی ہولی فساد امریکی جارحیت کا تسلسل تھا ان کی جارحانہ اور نام نہاد جنگ میں خطہ کوجلا کرراکھ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کریں اور افغانستان کے منجمد اثاثوں کو بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب خطہ مزید بحران اور بے امنی پیدا کرنے کا متحمل نہیں، امریکہ مذموم عزائم، غاصبانہ قبضے اور فوجی طاقت، سفاکیت اور ننگی جارجیت کو چھوڑ دے۔


