کوئٹہ، سرکاری اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال 33ویں روز بھی جاری
کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان،اساتذہ قائدین کی تادم مرگ بھوک ہڑتالی 33ویں روز بھی جاری رہا،میر احمد شاہد مینگل کو بے ہوشی اور تشویشناک حالت میں سول ہسپتال منتقل کردیا،منظور بلوچ،عنایت کاکڑ،سعید ناصر پہلے سے ہسپتال میں داخل ہیں اور بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں،اساتذہ کا جائز اور تسلیم شدہ مطالبات بلوچستان کے اساتذہ کو ملک کے دیگر صوبوں بشمول وفاق وآزاد کشمیر کے اساتذہ کی طرز پر ایگریڈ کیا جائے،واضح رہے وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ستمبر کو اساتذہ بلوچستان ایگریڈ کرنے کی منظور ی دیدی ہے،متعلقہ حکام کو فوری طورپر سمری پیش کرنے اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی ہے،دو روز گزرنے کے باوجود تاحال نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا،جس سے اساتذہ عوامی حلقوں میں شدیدبے چینی اور اضطراب پایا جارہاہے،اساتذہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا تادم مرگ بھوک ہڑتال اور احتجاجی تحریک جاری رہے گا،اساتذہ کے جائز مطالبات کی صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں،اساتذہ وآل ملازمین تنظیموں،وکلاء برادری،تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز کی حمایت حاصل ہے،بیان میں خبردار کیا کہ خدانخواستہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور رکاوٹ بننے والے تعلیم واساتذہ دشمن بیوروکریٹس پر عائد ہوگی۔


