زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث عملے کیخلاف کارروائی کی جائے، صوبائی قومی جرگہ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی قومی جر گہ کے سر براہ یو سف خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا ایک لار جر بنچ بیرون از لائن زمینیں بلو چستان کے قبائل و زمینداران کی ملکیت قر ار دے چکا ہے حکومت سے مطالبہ بلو چستان ہائی کورٹ کے لار جر بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو واپس لیا جائے،حکومت ہمارا حق ہڑپ کر نا چاہتی ہے، سیا سی جماعتوں نے صوبائی قومی جر گہ کا سا تھ صر ف اور صرف جر گوں اور پریس کانفرنسز کی حد تک دیا ہے، موجود سٹلمنٹ آفس میں کوئٹہ ڈویژن سے باہر دوسرے ڈویژنوں کے ریونیو عملے کی سیا سی بنیادوں پر تعینات کی گئی ہیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو حاجی عبد الرحمن با زئی، عبد المجیب، عبد ا مجید، ملک عبد القیوم شاہوانی، سید علی محمد شاہ چشتی سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو قانون کے مطابق ہر 25سال بعد سٹلمنٹ کر نی ہو تی ہے لیکن ہما ری پچھلی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پو ری نہیں کیں بلو چستان ہائی کورٹ کا ایک لار جر بنچ بیرون از لائن زمینیں بلو چستان کے قبائل و زمینداران کی ملکیت قر ار دے چکا ہے حکومت بلو چستان نے بلو چستانی عوام کی مرضی اور مفاد کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کے لار جر بنچ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا ہے جوکہ بلو چستان کی عوام کے خلاف ہے ہما را حکومت بلو چستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنا کیس واپس لیکر ہر ضلع میں سیٹلمنٹ بر وقت مکمل کروانے کا حکم جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ مائنز و منر لز بھی اپنے اختیارات سے تجا وز کر تے ہوئے ضلع کوئٹہ کے مختلف مو ضعات میں پہاڑ کی الاٹمنٹ کی بجائے زمینیں الاٹ کر تے رہے ہیں ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ سٹلمنٹ عمل کے دوران محکمہ مائنز کی طرف سے الاٹ کی ہوئی زمینیں ان موضع کے زمینداروں کے نام درج کئے جائیں اور الاٹمنٹس منسوخ کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ سٹلمنٹ آفس کوئٹہ میں 80سال بعد ہو نے والی سٹلمنٹ میں کرپشن عروج پر ہے ہما رے مطالبہ ہے کہ رشوت اور ایجنٹس کی کمیشن کی بنیاد پر تیار کئے گئے مختلف مو ضوعات میں سٹلمنٹ ریکارڈ کو منسوخ کیا جائے اور ملوث عملے کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے چیف جسٹس بلو چستان ہائی کورٹ اور صوبائی حکومت و سیا سی پارٹیوں کی تو جہ اس طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ ضلع کوئٹہ کے مختلف مو ضوعات میں سٹلمنٹ کا عمل مکمل ہو نے سے پہلے ریکارڈ زمینداروں کو دینے کی بجائے ڈی ایچ اے کے ایجنٹس ایل پی ایس تک پہنچ تک جا تے ہیں جو زمینداران کو جبراً زمینیں فروخت کر نے پر مجبور کر تے ہیں حکومت فوری طورپر نو ٹس لیکر ایجنٹس کو منع کرے۔ انہوں نے کہاکہ موجود سٹلمنٹ آفس میں کوئٹہ ڈویژن سے باہر دوسرے ڈویژنوں کے ریونیو عملے کی سیا سی بنیادوں پر تعینات کی گئی ہیں جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے اور ان میں سے چند افراد کو مختلف عدالتوں سے ماضی میں سزا بھی ہو چکی ہے، موجود سٹلمنٹ عملے پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ 15جون سے 18اگست تک 1500ملی میٹر شدید بارشوں سے 33اضلاع میں زمینداران کو مجمو عی طور پر 300ارب روپے کا نقصان ہے ہوا جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے زمینداروں کے نقصان کے ازالے کے لئے 10ارب رکھے گئے جو کہ اونٹ کے منہ میں زرے کے برابر بھی نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں